Skip to content Skip to sidebar Skip to footer

ستمبر کاشت کماد میں کینولا/ سرسوں کی کاشت کیسے کریں؟

 

ستمبر کاشت کماد کی قطاروں کے درمیان کنولا کی بین فصل
ستمبر کاشت کماد میں مناسب طریقے سے کینولا یا رایا کی بین فصل اضافی آمدن کا ذریعہ بن سکتی ہے۔

ستمبر میں کاشت کیا جانے والا کماد شروع کے دنوں میں اپنی جڑیں اور پودے مضبوط کر رہا ہوتا ہے۔ اس دوران کماد کی قطاروں کے درمیان کافی جگہ موجود ہوتی ہے، جسے مناسب طریقے سے استعمال کرتے ہوئے بعض علاقوں میں کنولا، رایا یا سرسوں کو بین فصل کے طور پر کاشت کیا جاتا ہے۔

میرے خیال میں ستمبر کاشت کماد میں کینولا یا سرسوں لگاتے وقت صرف یہ دیکھنا کافی نہیں کہ بین فصل سے کتنی پیداوار حاصل ہوگی۔ اصل بات یہ ہے کہ بین فصل سے فائدہ بھی ملے اور کماد کی اصل فصل متاثر بھی نہ ہو۔

اگر کینولا یا سرسوں بہت زیادہ گھنی ہو جائے، دیر سے تیار ہونے والی قسم کا انتخاب کیا جائے یا پانی اور کھاد کا مناسب انتظام نہ ہو تو کماد کی ابتدائی بڑھوتری متاثر ہو سکتی ہے۔ 

اس لیے اس مضمون کو Pak Agri Info میں ہم ستمبر کاشت کماد کے ساتھ کینولا اور سرسوں کی بین فصل کا عملی طریقہ آسان الفاظ میں سمجھیں گے۔

ستمبر کاشت کماد میں کینولا یا سرسوں کیوں کاشت کی جاتی ہے؟

ستمبر کاشت کماد کی قطاروں کے درمیان شروع میں کافی جگہ موجود ہوتی ہے۔ اس جگہ کو مناسب طریقے سے استعمال کرکے کینولا یا رایا بطور بین فصل کاشت کی جا سکتی ہے۔

اس طریقے کا بنیادی مقصد یہ ہے کہ کماد کی اصل فصل کو نقصان پہنچائے بغیر خالی جگہ سے بھی اضافی پیداوار اور آمدن حاصل کی جائے۔

پنجاب محکمہ زراعت کی کینولا اور سرسوں سے متعلق معلومات کے مطابق انمول رایا ستمبر میں کاشت کے لیے موزوں ہے اور ستمبر کاشت کماد کے ساتھ بین فصل کے طور پر بھی استعمال کی جا سکتی ہے۔ اسی صفحے پر آری کینولا کو بھی کماد میں بین فصل کے لیے موزوں بتایا گیا ہے۔

یہاں ایک بات ضرور یاد رکھیں کہ ہر قسم کا کینولا یا سرسوں کماد کے درمیان لگانا ایک جیسا نتیجہ نہیں دیتا۔ قسم کا انتخاب اپنے علاقے، دستیاب پانی، زمین اور فصل کی مدت کو دیکھ کر کرنا بہتر ہے۔

ستمبر کاشت کماد میں کینولا یا سرسوں کب کاشت کریں؟

یہ سوال بہت سے کسانوں کے ذہن میں ہوتا ہے کہ کماد اگنے کے کتنے دن بعد کینولا یا سرسوں کا بیج ڈالنا چاہیے۔

اس کا کوئی ایک مقررہ دن ہر کھیت کے لیے درست نہیں ہے۔ کماد کے اگاؤ، زمین کی نمی، قطاروں کی حالت اور منتخب بین فصل کی قسم کو دیکھنا زیادہ بہتر ہے۔

میری رائے میں صرف یہ اصول نہیں بنانا چاہیے کہ کماد اگنے کے ٹھیک ایک ماہ بعد لازمی کینولا لگانا ہے۔ اگر زمین کی حالت مناسب نہ ہو تو صرف دن پورے ہونے کی وجہ سے بیج ڈالنا فائدہ مند نہیں ہوگا۔

پنجاب کی تحقیقی سفارشات کے مطابق کماد لگانے کے بعد جب زمین مناسب نمی کی حالت میں ہو تو کماد کی قطاروں کے درمیان جگہ تیار کرکے رایا کاشت کی جا سکتی ہے۔

اگر آپ نے ابھی ستمبر میں کماد کاشت کیا ہے تو کماد کی ابتدائی کاشت، زمین کی تیاری اور بیج کے بارے میں ہماری ستمبر میں کماد کاشت کیسے کریں؟ مکمل گائیڈ بھی پڑھ سکتے ہیں۔

کماد کے ساتھ کون سا کینولا یا رایا لگائیں؟

بین فصل کے لیے ایسی قسم کا انتخاب زیادہ بہتر رہتا ہے:

  • نسبتاً کم مدت میں تیار ہو۔
  • بہت زیادہ پھیلاؤ نہ کرے۔
  • کماد کو زیادہ سایہ نہ دے۔
  • مقامی آب و ہوا کے مطابق ہو۔
  • وقت پر برداشت ہو سکے۔
  • آپ کے علاقے میں کامیابی سے کاشت کی جاتی ہو۔

پنجاب محکمہ زراعت کی موجودہ معلومات میں انمول رایا کو ستمبر کاشت کماد کے ساتھ بین فصل کے لیے موزوں بتایا گیا ہے، جبکہ آری کینولا کو بھی گنے کی بین فصل کے لیے موزوں قرار دیا گیا ہے۔

یہاں بین کی قسم کا انتخاب کرتے وقت صرف پیداوار دیکھنے کے بجائے اس کی مدتِ پکاؤ اور قد بھی دیکھیں۔

پنجاب کی تحقیقی سفارشات میں بھی بین فصل کے لیے ایسی قسم منتخب کرنے کی بات کی گئی ہے جو کم پھیلنے والی، سیدھی بڑھنے والی اور جلد پکنے والی ہو، تاکہ کماد پر سایہ کم پڑے۔

پاکستان بھر میں محکمہ زراعت سے کینولا کی منظور شدہ اقسام پیداوار کے بارے میں لکھا گیا مضمون ضرور ملاحظہ فرمائیں۔

کماد کی قطاروں کے درمیان زمین کیسے تیار کریں؟

ستمبر کاشت کماد کی قطاروں کے درمیان کنولا کی کاشت کے لیے زمین تیار کرتا کسان
کماد کی قطاروں کو نقصان پہنچائے بغیر درمیان کی زمین کو مناسب وتر میں تیار کرکے کنولا کاشت کیا جا سکتا ہے۔

یہ مرحلہ بظاہر چھوٹا ہے لیکن بین فصل کی کامیابی میں بہت اہم ہے۔

کینولا یا سرسوں کا بیج ڈالنے سے پہلے قطاروں کے درمیان موجود زمین کو مناسب طریقے سے تیار کریں۔ اگر زمین بہت سخت ہو یا اوپر تہہ بن گئی ہو تو بیج کا اگاؤ متاثر ہو سکتا ہے۔

میری رائے میں کماد کی قطاروں کو نقصان پہنچائے بغیر درمیان کی زمین تیار کریں۔

  • بہت زیادہ گہری گوڈی سے گریز کریں۔
  • زمین میں مناسب وتر ہونا چاہیے۔
  • بڑے ڈھیلے ختم کریں تاکہ بیج کا مٹی سے اچھا رابطہ ہو۔
  • کماد کے پودوں اور جڑوں کو غیر ضروری نقصان نہ پہنچائیں۔
ستمبر کاشتہ کماد میں اگر قطاروں کے درمیان مناسب جگہ موجود ہو تو بعض حالات میں کینولا یا سرسوں کو بین فصل کے طور پر کاشت کیا جا سکتا ہے۔ اس کے لیے قطاروں کا فاصلہ، زمین کی نمی اور کماد کی ابتدائی حالت کو مدنظر رکھنا ضروری ہے۔ کینولہ اور سرسوں کی کاشت کا صحیح وقت، منظور شدہ اقسام اور بیج کی شرح کے بارے میں ہماری مکمل رہنمائی بھی دیکھیں۔

پنجاب کی تحقیقی سفارش میں بھی کماد کی قطاروں کے درمیان مناسب نمی آنے پر زمین کو تیار کرکے رایا کا بیج کم گہرائی پر ڈالنے کی بات کی گئی ہے۔

کماد میں کینولا یا سرسوں کی کتنی قطاریں رکھیں؟

کماد کی قطاروں کے درمیان بین فصل کی مناسب آبادی رکھنا ضروری ہے تاکہ کماد پر زیادہ سایہ نہ پڑے

یہاں سب سے زیادہ احتیاط کی ضرورت ہے۔ کماد کے درمیان بین فصل کو بہت گھنا کرنا مناسب نہیں ہوتا، کیونکہ اس سے کماد کو روشنی کم مل سکتی ہے۔

پنجاب کی شائع شدہ تحقیقی سفارش کے مطابق کماد کی قطاروں کے درمیان رایا کی ایک قطار رکھنا بہتر ہے۔ کماد کا قطار فاصلہ تقریباً 90 یا 120 سینٹی میٹر ہونی چاہیے۔ 

دونوں صورتوں میں ایک قطار کی سفارش کی گئی ہے۔ دو قطاریں زیادہ گھنی آبادی پیدا کرکے کماد پر زیادہ سایہ ڈال سکتی ہیں۔ اس لیے زیادہ پیداوار لینے کے لالچ میں دو قطاریں لگا دینا ضروری نہیں کہ بہتر فیصلہ ہو۔

ایک قطار کیوں بہتر رہتی ہے؟

کماد کو ابتدائی نشوونما کے لیے روشنی، ہوا، پانی اور غذائی اجزا کی ضرورت ہوتی ہے۔

اگر کینولا یا سرسوں بہت گھنی ہو جائے تو کماد کے ساتھ مقابلہ بڑھ سکتا ہے۔ خاص طور پر وہ بین فصل جو زیادہ پھیلتی ہو یا دیر سے تیار ہوتی ہو، کماد کے لیے مسئلہ بن سکتی ہے۔

کینولا یا سرسوں کا بیج کتنی گہرائی پر ڈالیں؟

کینولا اور رایا کا بیج بہت گہرا ڈالنے کی بجائے مناسب کم گہرائی پر کاشت کرنا بہتر رہتا ہے۔

بہت گہری کاشت سے ننھے پودے کے لیے زمین سے باہر نکلنا مشکل ہو سکتا ہے، جبکہ بہت اوپر بیج رکھنے سے نمی کی کمی کی صورت میں اگاؤ متاثر ہو سکتا ہے۔

اس لیے زمین کے وتر اور مقامی کاشت کے طریقے کے مطابق مناسب گہرائی رکھیں اور بیج ڈالنے کے بعد اس بات کو یقینی بنائیں کہ بیج کا مٹی کے ساتھ اچھا رابطہ ہو۔

پہلے پانی کے بعد کینولا کی چھٹائی کیوں ضروری ہے؟

جب کینولا یا رایا اگ جائے اور پودے ابتدائی پتوں کی حالت میں پہنچ جائیں تو کھیت کا معائنہ ضرور کریں۔ اگر پودے بہت زیادہ گھنے ہوں تو ان کی چھٹائی کی ضرورت پڑ سکتی ہے۔

پنجاب کی تحقیقی سفارش کے مطابق پہلی آبپاشی کے بعد جب پودے تقریباً 4 سے 5 پتوں کی حالت میں پہنچیں تو انہیں مناسب فاصلہ دے کر کم کیا جا سکتا ہے۔ اس تحقیق میں تقریباً 10 سینٹی میٹر پودے سے پودے کا فاصلہ بیان کیا گیا ہے۔

اس کا مقصد یہ ہے کہ پودوں کے درمیان بہت زیادہ مقابلہ نہ ہو اور فصل مناسب انداز میں بڑھے۔

کینولا اور کماد کو پانی کیسے دیں؟

یہاں کسان کو سب سے زیادہ سمجھ داری سے کام لینا چاہیے، کیونکہ ایک ہی کھیت میں دو فصلیں موجود ہیں۔ کماد کو ضرورت کے مطابق پانی چاہیے، لیکن کینولا یا سرسوں میں ضرورت سے زیادہ آبپاشی بھی مناسب نہیں سمجھی جاتی۔

خاص طور پر بین فصل کی ابتدائی نشوونما کے دوران کھیت میں پانی کھڑا نہیں ہونا چاہیے۔

ہر پانی سے پہلے کھیت کو دیکھیں:

  • کماد کی زمین میں نمی کتنی ہے؟
  • کینولا یا سرسوں کی حالت کیسی ہے؟
  • کہیں پانی کھڑا تو نہیں؟
  • زمین بہت خشک تو نہیں؟
  • جڑی بوٹیاں تو نہیں بڑھ رہیں؟

پنجاب کی تحقیق میں بھی رایا کی آبپاشی کے حوالے سے ضرورت سے زیادہ پانی سے بچنے کی بات کی گئی ہے، کیونکہ زیادہ آبپاشی سبز بڑھوتری بڑھا کر بین فصل کی پختگی میں تاخیر کر سکتی ہے۔

اگر آپ ستمبر کاشت کماد کے پہلے پانی کے بارے میں تفصیل چاہتے ہیں تو ہماری یہ ستمبر کاشت کماد کو پہلا پانی کب دیں؟ مکمل گائیڈ پڑھیں۔

اگر آپ کماد (گنا) کی پوری آبپاشی کے بارے میں دیکھنا چاہتے ہیں تو ہماری یہ گائیڈ کماد میں آبپاشی کا مکمل طریقہ ضرور پڑھیں.

کینولا اور سرسوں میں کھاد کا کیا خیال رکھیں؟

بین فصل کا مطلب یہ نہیں کہ کماد کے لیے دی جانے والی تمام کھاد خود بخود کینولا کو بھی کافی مل جائے گی۔ دونوں فصلوں کی غذائی ضروریات مختلف ہو سکتی ہیں۔ اس لیے کھاد کا فیصلہ زمین کی زرخیزی، پہلے سے دی گئی کھاد اور مقامی سفارشات کو دیکھ کر کرنا چاہیے۔

خاص طور پر نائٹروجن کی مقدار میں بلاوجہ اضافہ نہ کریں۔ بہتر ہے کہ زمین کی حالت اور فصل کی ضرورت کے مطابق کھاد کا انتظام کیا جائے۔

اگر آپ کماد کے لیے مکمل کھادوں کا شیڈول دیکھنا چاہتے ہیں تو ہماری یہ کماد کی کھادوں کا مکمل شیڈول، گائیڈ بھی پڑھیں۔


اور اگر DAP کے استعمال کے بارے میں تفصیل جاننا چاہتے ہیں تو کماد میں فاسفورس (DAP) کی اہمیت، فوائد، مقدار اور استعمال کا صحیح وقت بھی ضرور پڑھیں۔

جڑی بوٹیوں کا کنٹرول بھی ضروری ہے

کماد کے ساتھ کینولا یا سرسوں لگانے کے بعد جڑی بوٹیوں کو نظر انداز نہیں کرنا چاہیے۔

جڑی بوٹیاں پانی اور غذائی اجزا کے لیے دونوں فصلوں کے ساتھ مقابلہ کرتی ہیں۔ شروع میں اگر کھیت صاف رکھا جائے تو بعد میں مسئلہ کافی کم ہو سکتا ہے۔

کماد کی فصل میں جڑی بوٹیوں کا اگاؤ زیادہ ہوتا ہے۔ لیکن جب کینولا ستمبر کماد میں کاشت کی جائے گی تو اس وقت جڑی بوٹیوں کا کنٹرول نہیں ہو گا۔ نہ گوڈی اور نہ سپرے ہوگا ورنہ سرسوں کی فصل کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔

اگر آپ کماد میں جڑی بوٹیوں کی اقسام، گوڈی اور مؤثر کنٹرول کے بارے میں تفصیل پڑھنا چاہتے ہیں تو ہماری مکمل گائیڈ ضرور پڑھیں۔

کماد کے ساتھ کینولا لگاتے وقت سب سے بڑی غلطیاں

1۔ بہت زیادہ گھنی بین فصل

دو قطاریں یا بہت زیادہ بیج ڈالنے سے کینولا یا سرسوں گھنی ہو سکتی ہے اور کماد کو روشنی کم مل سکتی ہے۔

2۔ دیر سے پکنے والی قسم کا انتخاب

ایسی بین فصل جو بہت دیر تک کھیت میں موجود رہے، کماد پر سایہ ڈال سکتی ہے۔

تحقیقی سفارشات میں بھی ایسی بین فصل کے انتخاب پر زور دیا گیا ہے جو جلد پک جائے، جبکہ اپریل تک رہنے والی دیر سے پکنے والی سرسوں یا کینولا کماد کی ٹلرنگ اور بڑھوتری میں رکاوٹ بن سکتی ہے۔

3۔ ضرورت سے زیادہ پانی

ہر فصل کو زیادہ پانی دینا فائدہ مند نہیں ہوتا۔ پانی کھڑا ہونے سے کماد اور بین فصل دونوں متاثر ہو سکتے ہیں۔

4۔ کماد کی قطاروں کو نقصان پہنچانا

بین فصل کی تیاری یا گوڈی کے دوران کماد کے ننھے پودوں کو نقصان نہیں پہنچانا چاہیے۔

5۔ صرف بین فصل پر توجہ دینا

کسان کو یاد رکھنا چاہیے کہ اصل فصل کماد ہے۔ کینولا یا سرسوں سے اضافی آمدن حاصل کرنا مقصد ہے، کماد کی پیداوار کو خطرے میں ڈالنا نہیں۔

کینولا یا سرسوں کب برداشت کریں؟

بین فصل کی برداشت میں بلاوجہ تاخیر نہیں کرنی چاہیے۔

پنجاب کی تحقیقی سفارشات میں ایسی بین فصل منتخب کرنے پر زور دیا گیا ہے۔ جو دسمبر تک برداشت کے قابل ہو جائے۔ کیونکہ اگر بین فصل زیادہ دیر تک کھیت میں موجود رہے تو اس کا سایہ کماد کی بعد کی بڑھوتری اور ٹلرز بننے پر اثر ڈال سکتا ہے۔

اس لیے اچھی قسم کے بیج کا انتخاب کرتے وقت صرف پیداوار نہ دیکھیں بلکہ مدتِ پکاؤ اور کماد کے ساتھ مطابقت بھی دیکھیں۔

کماد کے ساتھ کینولا یا سرسوں لگانے کا آسان طریقہ

اگر پورے طریقے کو آسان الفاظ میں سمجھیں تو ترتیب کچھ یوں بنتی ہے۔

  1. ستمبر میں کماد کی اچھی کاشت کریں۔
  2. کماد کے ابتدائی اگاؤ اور زمین کی حالت کا جائزہ لیں۔
  3. مناسب وتر آنے پر قطاروں کے درمیان زمین تیار کریں۔
  4. اپنے علاقے کے لیے موزوں مختصر مدت والی کینولا یا رایا کا انتخاب کریں۔
  5. کماد کی قطاروں کے درمیان ایک قطار رکھنے کو ترجیح دیں۔
  6. بیج مناسب کم گہرائی پر ڈالیں۔
  7. اگاؤ کے بعد گھنے پودوں کی حالت دیکھیں۔
  8. پہلی آبپاشی کے بعد ضرورت کے مطابق چھٹائی کریں۔
  9. جڑی بوٹیوں اور پانی کی صورتحال پر نظر رکھیں۔
  10. بین فصل کو غیر ضروری طور پر زیادہ دیر کھیت میں نہ رہنے دیں۔
  11. وقت پر برداشت کرکے کماد کی اگلی بڑھوتری کے لیے کھیت کو دوبارہ سنبھالیں۔

کینولا یا سرسوں کماد میں لگانا فائدہ مند ہے؟

صحیح قسم کا بیج، مناسب آبادی، مناسب پانی اور بروقت برداشت کے ساتھ کماد میں کینولا یا رایا کی بین فصل اضافی آمدن کا ذریعہ بن سکتی ہے۔

پنجاب کی شائع شدہ تحقیق میں ستمبر کے وسط میں کماد کے ساتھ ایک قطار کینولا لگانے سے کماد اکیلا رکھنے کے مقابلے میں مجموعی اور خالص آمدن زیادہ ہونے کا نتیجہ بھی رپورٹ ہوا ہے۔ تاہم یہ نتیجہ ہر زمین، علاقے، قسم اور سال میں لازماً ایک جیسا نہیں ہوگا۔
پنجاب کے محکمہ زراعت کے تحقیقی ادارے بھی کماد میں Canola intercropping پر تحقیق کر رہے ہیں، اس لیے یہ موضوع باقاعدہ زرعی تحقیق کا حصہ ہے۔
نوٹ:  اس لیے میرے نزدیک بہترین طریقہ یہی ہے کہ کسان اپنے علاقے کی آب و ہوا، زمین، پانی اور دستیاب قسم کو دیکھ کر فیصلہ کرے۔

خلاصہ

ستمبر کاشت کماد میں کینولا یا سرسوں کی کاشت ایک مفید بین فصلی طریقہ ہو سکتی ہے۔ لیکن کامیابی کا اصل راز کماد کو نقصان پہنچائے بغیر بین فصل کی مناسب آبادی رکھنا ہے۔
ایک قطار، مناسب قسم، کم گہرائی پر کاشت، ضرورت کے مطابق پانی، بروقت چھٹائی اور جلد برداشت جیسے معاملات پر توجہ دی جائے تو دونوں فصلوں کو بہتر طریقے سے سنبھالا جا سکتا ہے۔
سب سے اہم بات یہ ہے کہ کینولا یا سرسوں کو کماد کی اصل فصل پر حاوی نہ ہونے دیں۔ بین فصل سے فائدہ اسی وقت ہے جب کماد کی پیداوار بھی اچھی رہے۔

اکثر پوچھے جانے والے سوالات

کیا ستمبر کاشت کماد میں کینولا لگایا جا سکتا ہے؟

جی ہاں، ستمبر کاشت کماد میں کینولا یا رایا کو بین فصل کے طور پر کاشت کیا جا سکتا ہے۔ پنجاب محکمہ زراعت نے بعض اقسام کو خاص طور پر ستمبر کاشت کماد کے ساتھ بین فصل کے لیے موزوں بتایا ہے۔

کماد کے ساتھ کینولا کی کتنی قطاریں لگانی چاہئیں؟

تحقیقی سفارش کے مطابق کماد کی قطاروں کے درمیان ایک قطار رایا رکھنا بہتر ہے۔ بہت زیادہ گھنی بین فصل کماد پر سایہ ڈال سکتی ہے۔

کیا کماد اگنے کے ایک ماہ بعد لازمی کینولا لگانا چاہیے؟

ایک مقررہ دن سب کھیتوں کے لیے درست نہیں ہوتا۔ زمین کی نمی، کماد کے اگاؤ اور قطاروں کی حالت دیکھ کر مناسب وقت کا انتخاب کرنا چاہیے۔

کماد کے ساتھ کون سی رایا بہتر ہے؟

پنجاب محکمہ زراعت کے مطابق Anmol Raya ستمبر کاشت کماد کے ساتھ بین فصل کے لیے موزوں ہے۔ AARI Canola کو بھی sugarcane intercropping کے لیے موزوں بتایا گیا ہے۔

کیا کینولا کماد کی پیداوار کم کر سکتا ہے؟

اگر بین فصل بہت گھنی ہو، دیر سے تیار ہو یا پانی اور غذائی اجزا کے لیے کماد کے ساتھ زیادہ مقابلہ کرے تو کماد متاثر ہو سکتا ہے۔ اسی لیے مناسب قسم اور مناسب آبادی بہت اہم ہے۔

کیا کینولا کے ساتھ کماد کو زیادہ پانی دینا چاہیے؟

پانی فصل کی ضرورت، زمین کی قسم، موسم اور نمی کو دیکھ کر دینا چاہیے۔ غیر ضروری آبپاشی سے فائدے کے بجائے نقصان ہو سکتا ہے۔

تحقیق اور ذرائع 

یہ مضمون پنجاب محکمہ زراعت کی سرچ ستمبر کماد کاشت کے ساتھ پیج کی اقسام، اوقات کے ساتھ موزوں رایا یا کینولا سرسوں کے بارے میں تحقیق شامل ہیں۔ اس کے ساتھ کماد میں۔ رایا/کینولا کی بین فصل، قطاروں، آبپاشی، بھٹائی اور برداشت سے متعلق پنجاب ایگریکلچر ریسرچ بورڈ کی سفارشات شامل کی گئی ہیں۔

ایک تبصرہ شائع کریں for "ستمبر کاشت کماد میں کینولا/ سرسوں کی کاشت کیسے کریں؟"