![]() |
| ستمبر کاشت کماد میں جڑی بوٹیوں کی بروقت شناخت اور مؤثر کنٹرول سے فصل کو پانی، غذائی اجزا اور روشنی کے مقابلے سے بچایا جا سکتا ہے۔ |
ستمبر میں کاشت کماد شروع کے دنوں میں آہستہ بڑھتا ہے۔ جبکہ جڑی بوٹیاں نسبتاً تیزی سے نکل سکتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ابتدائی ہفتوں میں اگر کھیت کی جڑی بوٹیوں پر توجہ نہ دی جائے تو وہ کماد کے پودوں سے پانی، خوراک اور روشنی کے لیے مقابلہ شروع کر دیتی ہیں۔
اچھی پیداوار کے لیے صرف کاشت، کھاد اور آبپاشی کافی نہیں ہوتی۔ جڑی بوٹیوں کا بروقت کنٹرول بھی ستمبر کاشت کماد کی ابتدائی دیکھ بھال کا اہم حصہ ہے۔
اس مضمون کو Pak Agri Info پر نہایت آسان اور سادہ الفاظ میں کسانوں کو سمجھنے اور پڑھنے میں آسانی ہو گی۔ یہ مضمون زرعی سفارشات پر مبنی ہے۔
ستمبر کاشت کماد میں جڑی بوٹیاں زیادہ کیوں پیدا ہوتی ہیں؟
کماد کی قطاروں کے درمیان شروع میں کافی جگہ خالی ہوتی ہے اور نئی فصل کا اگاؤ بھی فوراً مکمل نہیں ہوتا۔ اس دوران زمین، پانی اور کھاد دستیاب ہونے کی وجہ سے جڑی بوٹیوں کو بڑھنے کا اچھا موقع مل جاتا ہے۔
خاص طور پر بار بار آبپاشی، زیادہ نمی اور کھیت میں پہلے سے موجود جڑی بوٹیوں کے بیج یا زیرِ زمین جڑیں مسئلہ بڑھا سکتی ہیں۔
کماد کے کھیت میں کون کون سی جڑی بوٹیاں پیدا ہوتی ہیں؟
کماد میں جڑی بوٹیوں کو عام طور پر گھاس نما، چوڑے پتوں والی اور سیج نما جڑی بوٹیوں میں تقسیم کیا جاتا ہے۔ ان کی موجودگی علاقے، زمین اور پچھلی فصل کے مطابق مختلف ہو سکتی ہے۔
پاکستانی زرعی مواد میں کماد کی اہم جڑی بوٹیوں میں جنگلی چولائی، ڈیلا، کھبل گھاس (تلہڑ)، ڈیلا نما گھاس، سوانک اور دوسری موسمی جڑی بوٹیوں کے علاؤہ کئی چوڑے پتوں والی جڑی بوٹیوں کا ذکر ملتا ہے۔
کماد میں ڈیلا اور کھبل گھاس کیوں خطرناک ہیں؟
ڈیلا (Cyperus rotundus) اور کھبل گھاس (Cynodon dactylon) ایسی جڑی بوٹیاں ہیں جو دوبارہ پیدا ہونے کی صلاحیت رکھتی ہیں اور صرف اوپر سے کاٹنے سے ہمیشہ ختم نہیں ہوتیں۔
پنجاب کے کماد سے متعلق تحقیقی مواد میں بھی Rhizomatous weeds، خصوصاً ڈیلا اور کھبل گھاس، کو مشکل جڑی بوٹیوں میں شمار کیا گیا ہے۔
کماد میں سوانک اور دوسری گھاس نما جڑی بوٹیاں
گھاس نما جڑی بوٹیاں کماد کے ساتھ تیزی سے بڑھ سکتی ہیں. خاص طور پر اس وقت جب کماد کی فصل ابھی چھوٹی ہو۔ ان میں Sorghum halepense، Panicum spp. اور Dactyloctenium aegyptium جیسی گھاسوں کا ذکر شوگر کین ریسرچ میں ملتا ہے۔
ان جڑی بوٹیوں کو شروع میں پہچاننا اس لیے ضروری ہے کہ بعد میں جب جڑیں مضبوط ہو جائیں تو کنٹرول زیادہ مشکل اور مہنگا ہو سکتا ہے۔
جڑی بوٹیاں کماد کی فصل کو کتنا نقصان پہنچاتی ہیں؟
اس کا کوئی ایک مقررہ فیصد نہیں بتایا جا سکتا ہے، کیونکہ نقصان کا انحصار جڑی بوٹی کی قسم، تعداد، فصل کی عمر اور مقابلے کی مدت پر ہوتا ہے۔
پنجاب کے تحقیقی مواد میں جڑی بوٹیوں کی وجہ سے کماد کی پیداوار میں 14 سے 74 فیصد تک کمی رپورٹ ہوئی ہے۔ جبکہ غیر کنٹرول شدہ جڑی بوٹیوں کی صورت میں تقریباً 32 فیصد پیداوار میں کمی بھی رپورٹ کی گئی۔
جڑی بوٹیاں کماد کی کتنی خوراک استعمال کرتی ہیں؟
جڑی بوٹیاں کماد کی فصل سے براہِ راست مقررہ فیصد خوراک نہیں لیتی بلکہ مٹی میں موجود پانی اور غذائی اجزا کے لیے مقابلہ کرتی ہیں۔
پنجاب کے تحقیقی مواد میں ایک پرانے مطالعے کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ جڑی بوٹیاں بعض حالات میں فصل کو دی گئی غذائیت کا تقریباً 40 فیصد تک حصہ استعمال کر سکتی ہیں۔ اسے ہر کھیت کی مستقل شرح نہیں سمجھنا چاہیے۔
جڑی بوٹیاں کماد کی کتنی خوراک استعمال کرتی ہیں؟
جڑی بوٹیاں کماد کی فصل سے براہِ راست مقررہ فیصد خوراک نہیں لیتیں بلکہ مٹی میں موجود پانی اور غذائی اجزا کے لیے مقابلہ کرتی ہیں۔
پنجاب کے تحقیقی مواد میں ایک پرانے مطالعے کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ جڑی بوٹیاں بعض حالات میں فصل کو دی گئی غذائیت کا تقریباً 40 فیصد تک حصہ استعمال کر سکتی ہیں۔ اسے ہر کھیت کی مستقل شرح نہیں سمجھنا چاہیے۔
جڑی بوٹیاں کماد سے کن چیزوں کے لیے مقابلہ کرتی ہیں؟
جڑی بوٹیاں کماد کے ساتھ بنیادی طور پر پانی، نائٹروجن اور دوسرے غذائی اجزا، روشنی اور جگہ کے لیے مقابلہ کرتی ہیں۔
اگر شروع کے دنوں میں جڑی بوٹیاں بہت زیادہ ہوں تو کماد کے پودوں کی بڑھوتری اور شاخیں بننے کا عمل متاثر ہو سکتا ہے۔ پنجاب زراعت چیپٹر 10 کی تحقیق میں ابتدائی 3 سے 10 ہفتوں کے دوران جڑی بوٹیوں کے مقابلے کو خاص نقصان دہ قرار دیا گیا ہے۔
ستمبر کاشت کماد میں جڑی بوٹیوں کا سب سے اہم وقت کون سا ہے؟
کماد میں جڑی بوٹیوں کے کنٹرول کے لیے ابتدائی مدت بہت اہم ہوتی ہے۔ پنجاب کی تحقیقی سفارشات کے Chapter 10 کے 288 صفحہ (Critical time of weed control)
The critical period of weed control insugarcane was) reported to be between 30 and 120 days after planting (Singh et al, 1980.)
میں کاشت کے تقریباً 30 سے 120 دن بعد کو جڑی بوٹیوں کے مقابلے کے لحاظ سے اہم مدت قرار دیا گیا ہے۔
اس کا مطلب یہ نہیں کہ 120 دن کے بعد جڑی بوٹیوں کو چھوڑ دیا جائے۔ بلکہ ابتدائی عرصے میں انہیں قابو کرنا زیادہ ضروری ہے تاکہ کماد کو مضبوط ہونے کا موقع ملے۔
ستمبر کاشت کماد میں ابتدائی دنوں کے دوران جڑی بوٹیوں پر خاص نظر رکھنا ضروری ہے، کیونکہ اس وقت کماد کے پودے ابھی چھوٹے ہوتے ہیں اور جڑی بوٹیاں تیزی سے بڑھ سکتی ہیں۔ پہلے 30 دن میں آبپاشی، اگاؤ اور جڑی بوٹیوں کی نگرانی کے بارے میں ہماری ستمبر کاشت کماد کی ابتدائی 30 دن کی دیکھ بھال بھی ضرور پڑھیں۔
جڑی بوٹیوں کو دوبارہ پیدا ہونے سے کیسے روکیں؟
صرف موجودہ جڑی بوٹیوں کو ختم کرنا کافی نہیں ہوتا بلکہ ان کے دوبارہ پیدا ہونے کے ذرائع کو بھی کم کرنا ضروری ہے۔ اس کے لیے کھیت کی صفائی، مناسب زمین کی تیاری اور جڑی بوٹیوں کو بیج بنانے سے پہلے ختم کرنا اہم ہے۔
خاص طور پر ایسی جڑی بوٹیوں پر توجہ دیں جو زیرِ زمین جڑوں، rhizomes یا tubers کے ذریعے دوبارہ نکلتی ہیں۔ کسان دوستو ان کے لیے صرف ایک بار گوڈی کافی نہیں ہوتی۔
کماد کی کاشت سے پہلے جڑی بوٹیوں کا خاتمہ
ستمبر کاشت سے پہلے کھیت میں موجود جڑی بوٹیوں کو ختم کرنا بہتر حکمت عملی سمجھا جاتا ہے۔ زمین کی مناسب جوتائی اور پچھلی فصل کی جڑی بوٹیوں کا کنٹرول شروع ہی سے مسئلہ کم کر سکتا ہے۔
اگر کھیت میں پہلے سے ڈیلا، کھبل یا دوسری مستقل جڑی بوٹیاں موجود ہوں تو کاشت سے پہلے ان کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے مقامی زرعی ماہر سے مناسب طریقہ معلوم کریں۔
کماد اگنے کے بعد گوڈی کب کریں؟
کسان دوستو! جڑی بوٹیوں کو بہت بڑا ہونے کا انتظار نہیں کرنا چاہیے۔ جب جڑی بوٹیاں چھوٹی ہوں تو دستی یا مشینی گوڈی سے انہیں قابو کرنا نسبتاً آسان ہوتا ہے۔
پنجاب کے تحقیقی مواد Can and Sugar Production کے صفحہ 288 کے مطابق کماد کی قطاروں کے درمیان میکانکی طریقے سے جڑی بوٹیوں کو کنٹرول کیا جا سکتا ہے۔ جبکہ طویل مدت والی فصل میں صرف ایک ہی طریقہ استعمال کرنے کی بجائے مختلف طریقوں کو ملا کر استعمال کرنا زیادہ مؤثر ہو سمجھا جاتا ہے۔
جڑی بوٹیوں کے لیے ہاتھ سے صفائی کب ضروری ہے؟
جہاں جڑی بوٹیاں کماد کی قطاروں کے بالکل قریب ہو اور مشین یا گوڈی کا ہل وہاں نہ پہنچ سکے تو وہاں ہاتھ سے صفائی مفید ثابت ہو سکتی ہے۔
خصوصاً شروع کے مرحلے میں کماد کے چھوٹے پودوں کو نقصان پہنچائے بغیر جڑی بوٹی نکالنا ضروری ہے۔ جڑی بوٹی نکالتے وقت اگر زیرِ زمین حصہ باقی رہ جائے تو دوبارہ اگنے والی جڑی بوٹیوں پر دوبارہ توجہ دینا ضروری ہے۔
جڑی بوٹیوں کے کنٹرول میں آبپاشی کا کیا کردار ہے؟
ضرورت سے زیادہ یا بہت بار بار آبپاشی جڑی بوٹیوں کے اگاؤ کو بھی بڑھا سکتی ہے۔ خاص طور پر ایسے کھیت میں جہاں پہلے سے جڑی بوٹیوں کے بیج موجود ہوں۔
اس لیے ستمبر کاشت کماد میں پانی زمین کی حالت، موسم اور فصل کی ضرورت کے مطابق دینا چاہیے۔ صرف جڑی بوٹیوں سے بچنے کے لیے پانی روکنا بھی درست نہیں ہے۔ کیونکہ کماد کو مناسب نمی کی ضرورت ہوتی ہے۔
ستمبر کاشت کماد میں جڑی بوٹیوں کے ساتھ پانی کا انتظام بھی اہم ہے۔ زمین کی قسم اور نمی کو دیکھ کر آبپاشی کی جائے تاکہ کماد کو مناسب پانی ملے اور غیر ضروری نمی کی وجہ سے جڑی بوٹیوں کا اگاؤ نہ بڑھے۔ پہلے پانی کے صحیح وقت اور ابتدائی آبپاشی کے طریقے کے لیے ہماری ستمبر کاشت کماد کو پہلا پانی کب دیں؟ والی مکمل گائیڈ بھی پڑھیں۔
کیا جڑی بوٹی مار دوا استعمال کی جا سکتی ہے؟
کماد میں بعض حالات میں جڑی بوٹی مار ادویات بھی استعمال کی جاتی ہیں۔ لیکن ہر جڑی بوٹی کے لیے ایک ہی دوا یا ایک ہی مقدار مناسب نہیں ہوتی۔
دوا کا انتخاب جڑی بوٹی کی قسم، کماد کی عمر، مٹی، آبپاشی، بین فصل اور رجسٹرڈ لیبل کے مطابق ہونا چاہیے۔ پرانی سفارش یا کسی دوسرے کسان کی دوا اور مقدار کو بغیر تصدیق کے اپنے کھیت میں استعمال ہرگز نہ کریں۔
جڑی بوٹی مار دوا استعمال کرتے وقت اہم احتیاط
اگر کماد کے ساتھ کینولا، سرسوں یا کوئی دوسری بین فصل موجود ہو تو جڑی بوٹی مار دوا کے انتخاب میں مزید احتیاط ضروری ہے۔
ایسی صورت میں وہ دوا استعمال نہیں کرنی چاہیے جو ساتھ موجود فصل کو نقصان پہنچائے۔ دوا کے موجودہ رجسٹرڈ لیبل اور محکمہ زراعت کی مقامی سفارش کو ترجیح دیں۔
ستمبر کاشت کماد میں جڑی بوٹیوں کی روک تھام کا بہترین طریقہ
جڑی بوٹیوں کے لیے صرف ایک طریقہ اختیار کرنے کے بجائے Integrated Weed Management یعنی مربوط حکمت عملی زیادہ مناسب سمجھی جاتی ہے۔
اس میں زمین کی تیاری، بروقت گوڈی، ہاتھ سے صفائی، مناسب آبپاشی اور ضرورت کے مطابق رجسٹرڈ جڑی بوٹی مار دوا شامل ہو سکتی ہے۔
پنجاب کے کماد کے تحقیقی مواد بھی طویل مدت والی کماد کی فصل کے لیے ثقافتی، میکانکی اور کیمیائی طریقوں کو ملا کر استعمال کرنے پر زور دیا گیا ہے۔
جڑی بوٹیوں کو بیج بنانے سے پہلے ختم کریں
کسان دوستوں کے لیے ایک آسان اصول یہ ہے کہ جڑی بوٹیوں کو اس وقت ختم کریں جب وہ چھوٹی ہوں اور بیج نہ بنائے ہوں۔
اگر جڑی بوٹیوں کو بڑھنے اور بیج بنانے کا موقع مل جائے تو اگلے سیزن میں اسی کھیت میں جڑی بوٹیوں کا مسئلہ زیادہ بڑھ سکتا ہے۔ اس لیے موجودہ فصل کے ساتھ ساتھ اگلی فصل کے لیے بھی کھیت صاف رکھنا ضروری ہے۔
ستمبر کماد میں جڑی بوٹیوں سے بچنے کے لیے 8 اہم باتیں
- کاشت سے پہلے کھیت کو جڑی بوٹیوں سے صاف رکھیں۔
- ڈیلا اور کھبل جیسی مستقل جڑی بوٹیوں پر خصوصی توجہ دیں۔
- شروع کے ہفتوں میں کھیت کا باقاعدہ معائنہ کریں۔
- جڑی بوٹیوں کو بیج بنانے کا موقع نہ دیں۔
- ضرورت کے مطابق بروقت گوڈی کریں۔
- آبپاشی زمین اور فصل کی ضرورت کے مطابق کریں۔
- جڑی بوٹی مار دوا صرف ضرورت اور درست شناخت کے بعد استعمال کریں۔
- دوا کی مقدار ہمیشہ موجودہ رجسٹرڈ لیبل اور مقامی زرعی سفارش کے مطابق رکھیں۔

ایک تبصرہ شائع کریں for "ستمبر کماد میں جڑی بوٹیاں، نقصان اور روک تھام"