سرسوں کی فصل میں کھاد کا استعمال، مقدار اور صحیح وقت | مکمل کھاد شیڈول
![]() |
| سرسوں کی فصل میں DAP، یوریا، سلفر اور پوٹاش کا استعمال فصل کی ضرورت، زمین کی زرخیزی اور مناسب وقت کے مطابق کرنے سے متوازن غذائیت فراہم کی جا سکتی ہے۔ |
کسان دوستوں! جیسا کہ آپ جانتے ہیں، سرسوں پاکستان کی اہم اور تیل دار فصلوں میں شامل ہے اور پنجاب میں رایا، سرسوں اور کینولا کی مختلف اقسام کاشت کی جاتی ہیں۔ اچھی پیداوار کے لیے صرف اچھی قسم اور بروقت کاشت کافی نہیں ہوتی، بلکہ متوازن کھاد اور مناسب وقت پر غذائی اجزا کی فراہمی بھی ضروری ہے۔
سرسوں میں خاص طور پر نائٹروجن، فاسفورس، پوٹاش اور سلفر کی کافی اہمیت ہے۔ تاہم ہر زمین میں ایک جیسی مقدار ڈالنا درست طریقہ نہیں ہے، کیونکہ زمین کی زرخیزی، پچھلی فصل، آبپاشی اور مٹی میں موجود غذائی اجزا کے مطابق کھاد کی ضرورت تبدیل ہو سکتی ہے۔
اس مضمون کو Pak Agri Info میں ہم جانیں گے کہ سرسوں میں DAP، یوریا، پوٹاش اور سلفر کب اور کتنی مقدار میں استعمال کیا جائے اور کھاد ڈالنے میں کون سی غلطیوں سے بچنا چاہیے۔
سرسوں کی فصل کو کھاد کی ضرورت کیوں ہوتی ہے؟
سرسوں کی فصل کو شروع سے ہی متوازن غذائیت کی ضرورت ہوتی ہے۔ فاسفورس جڑوں کی ابتدائی نشوونما میں مدد دیتا ہے جبکہ نائٹروجن پودے کی سبز بڑھوتری اور شاخوں کی نشوونما کے لیے اہم ہے۔
پوٹاش پودے کے مجموعی غذائی توازن اور مختلف دباؤ برداشت کرنے کی صلاحیت میں کردار ادا کرتا ہے. جبکہ سلفر سرسوں جیسی روغندار فصل میں خاص اہمیت رکھتا ہے۔
پنجاب کے Oilseeds Research Institute میں بھی سرسوں اور کینولا کے لیے مختلف پیداوار اور زرعی ٹیکنالوجی پر مسلسل تحقیق کی جاتی ہے۔
سرسوں کی اچھی پیداوار کے لیے کھاد کے ساتھ ساتھ صحیح وقت پر کاشت، مناسب قسم اور درست شرح بیج کا انتخاب بھی ضروری ہے۔ اس کے علاؤہ کینولا کی منظور شدہ اقسام بھی پیداوار میں اضافے کا سبب بنتی ہیں۔
اگر آپ سرسوں اور کینولا کی کاشت کے وقت، منظور شدہ اقسام، بیج کی شرح اور کاشت کے طریقے کے بارے میں مکمل معلومات چاہتے ہیں تو ہماری کینولا اور سرسوں کی کاشت اور اقسام کی مکمل گائیڈ بھی پڑھ سکتے ہیں۔
سرسوں کی کاشت کے وقت کون سی کھاد ڈالیں؟
کاشت کے وقت فاسفورس والی کھاد دینا عموماً اہم ہوتا ہے، کیونکہ فاسفورس کی ابتدائی دستیابی جکی نشوونما میں مدد دیتی ہے۔
پنجاب میں سرسوں اور کینولا کے لیے ایک سابقہ محکمہ زراعت سفارش میں ایک بوری DAP اور آدھی بوری یوریا فی ایکڑ کا ذکر کیا گیا ہے۔
ایک اور سرکاری ایوب ریسرچ سفارش میں ڈیڑھ بوری DAP، ایک بوری پوٹاشیم سلفیٹ اور بعد میں ایک بوری یوریا کا طریقہ بھی رپورٹ ہوا ہے۔ اس فرق سے واضح ہے کہ کھاد کا پروگرام فصل، علاقے اور سفارش کے مطابق تبدیل ہو سکتا ہے۔
نوٹ: اس لیے کسی ایک فارمولے کو ہر زمین کے لیے لازمی سمجھنے کے بجائے مقامی سفارش اور زمین کے تجزیے کو ترجیح دیں۔
سرسوں میں DAP کتنی ڈالیں؟
DAP میں فاسفورس کے ساتھ نائٹروجن بھی موجود ہوتی ہے۔ اس لیے اسے کاشت کے وقت استعمال کیا جا سکتا ہے۔
عمومی طور پر سرسوں کی فصل میں ایک بوری DAP فی ایکڑ ایک عام عملی مقدار کے طور پر استعمال کی جاتی ہے، جبکہ ایوب ریسرچ سرکاری سفارشات میں ڈیڑھ بوری DAP فی ایکڑ بھی دی گئی ہے۔
لہٰذا اگر زمین پہلے سے زرخیز ہو یا مٹی کے تجزیے میں فاسفورس مناسب مقدار میں موجود ہو تو اضافی DAP دینا ضروری نہیں سمجھا جاتا۔
نوٹ: DAP کی مقدار زمین کے تجزیے اور مقامی محکمہ زراعت کی سفارش کے مطابق طے کرنا زیادہ درست طریقہ ہے۔
سرسوں میں یوریا کب ڈالیں؟
سرسوں کی فصل میں یوریا نائٹروجن فراہم کرتی ہے۔ نائٹروجن پودے کی سبز بڑھوتری، شاخوں اور پھلیوں کی تشکیل میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔
یوریا کی پوری مقدار ایک ہی وقت پر ڈالنے کے بجائے فصل کی ضرورت کے مطابق تقسیم کرنا بہتر ہو سکتا ہے۔
پنجاب کی ایک سابقہ سفارش میں بوائی کے وقت ایک بوری DAP اور آدھی بوری یوریا فی ایکڑ کا ذکر ملتا ہے۔
جبکہ ایک دوسری سفارش میں پہلے پانی کے ساتھ ایک بوری یوریا دینے کا طریقہ بتایا گیا ہے
اس لیے یوریا کا حتمی شیڈول زمین، آبپاشی اور پہلے سے استعمال کی گئی کھاد کو دیکھ کر بنائیں۔
زیادہ یوریا کیوں نہیں ڈالنی چاہیے؟
ضرورت سے زیادہ نائٹروجن دینے سے ہمیشہ پیداوار میں اسی تناسب سے اضافہ نہیں ہوتا۔ اس لیے صرف یہ سوچ کر زیادہ یوریا نہ ڈالیں کہ زیادہ کھاد سے فصل زیادہ پیداوار دے گی۔
سرسوں میں سلفر کیوں ضروری ہے؟
سلفر سرسوں کی فصل کے لیے اہم غذائی عنصر مانا جاتا ہے اور اس کا تعلق پودے میں پروٹین اور تیل کی تشکیل جیسے حیاتیاتی عمل کو۔بہتر کرنا ہے۔
پاکستان میں کی گئی تحقیق میں سلفر اور پوٹاش کے استعمال سے سرسوں اور ریپ کی پیداوار کے اجزائے ترکیبی میں بہتری دیکھی گئی ہے۔ خاص طور پر اس زمین میں جو غذائی کمی کا شکار رہی ہو۔
تھل کے علاقے میں 2019 اور 2020 کے دوران کی گئی ایک تحقیق میں سرسوں پر مختلف سلفر مقداروں کا جائزہ لیا گیا۔ اس تجربے میں سلفر کی مختلف مقداروں سے فصل کی بڑھوتری اور پیداوار میں فرق دیکھا گیا، تاہم اسے ہر علاقے کے لیے ایک مقررہ سفارش نہیں سمجھنا چاہیے۔
سرسوں میں سلفر کتنی مقدار میں ڈالیں؟
سلفر کی ضرورت زمین میں موجود سلفر، فصل کی حالت اور استعمال ہونے والی کھاد پر منحصر ہے۔
تھل میں ہونے والے ایک تحقیقی تجربے میں 4، 6، 8 اور 10 کلوگرام سلفر فی ہیکٹر کی مختلف مقداروں کا موازنہ کیا گیا اور تجربے میں 8 کلوگرام فی ہیکٹر والے علاج نے ایک سال میں بہتر نتائج دکھائے۔ لیکن یہ تحقیقی تجربے کی مقدار ہے، پنجاب کے ہر کھیت کے لیے لازمی سفارش نہیں۔
اس لیے سلفر کی مقدار طے کرتے وقت زمین کا تجزیہ اور مقامی ماہرین کی سفارش کو ترجیح دیں۔
سرسوں میں پوٹاش کب استعمال کریں؟
پوٹاش کی ضرورت زمین کی غذائی حالت کے مطابق مختلف ہو سکتی ہے۔ اگر زمین میں پوٹاش کی کمی ہو تو اس کا استعمال فصل کی نشوونما اور پیداوار کے لیے فائدہ مند ہو سکتا ہے۔
پاکستان کے ایک تحقیقی مطالعے میں سلفر اور پوٹاش دونوں کے استعمال سے ریپ (Rip) اور سرسوں کی پیداوار کے اجزائے ترکیبی میں بہتری دیکھی گئی۔ اس تحقیق میں کمی والی زمین پر مختلف مقداروں کا تجربہ کیا گیا تھا۔
اس لیے پوٹاش کو ہر سرسوں /کینولا کے کھیت کے لیے لازمی قرار دینے کے بجائے زمین کی ضرورت کے مطابق استعمال کرنا بہتر ہے۔
سرسوں میں SOP یا پوٹاشیم سلفیٹ کا استعمال
پوٹاشیم سلفیٹ (SOP) پوٹاش کے ساتھ سلفر بھی فراہم کرتا ہے۔ اسی وجہ سے ایسی زمینوں میں جہاں دونوں غذائی اجزا کی ضرورت ہو۔ یہ کھاد مفید ہو سکتی ہے۔
ایک محکمہ زراعت پنجاب سے منسوب سفارش میں سرسوں کے لیے کاشت کے وقت ایک بوری پوٹاشیم سلفیٹ فی ایکڑ کا ذکر بھی ملتا ہے۔ تاہم اسے ہر زمین کے لیے لازمی مقدار نہ سمجھیں، کیونکہ کھاد کی ضرورت مٹی کے غذائی تجزیے کے مطابق بدل سکتی ہے۔
کیا سرسوں میں زنک اور بوران بھی ڈالنا چاہیے؟
زنک اور بوران مائیکرو نیوٹرینٹس ہیں، لیکن ہر زمین میں ان نیوٹرینٹس کی کمی نہیں ہوتی ہے۔
اس لیے بغیر ضرورت کے ہر سال زنک یا بوران ڈالنے کے بجائے پہلے زمین کے تجزیے یا فصل میں کمی کی واضح علامات کو دیکھنا بہتر ہے۔
اگر مٹی میں کسی مائیکرو نیوٹرینٹ کی کمی ثابت ہو تو مقامی محکمہ زراعت یا ماہرِ زراعت سے مناسب مقدار اور استعمال کا طریقہ معلوم کریں۔
سرسوں کی فی ایکڑ کھاد کا آسان شیڈول
ایک عمومی عملی خاکہ اس طرح سمجھیں:
وقت
کھاد
مقصد
کاشت کے وقت
DAP
فاسفورس اور ابتدائی غذائیت
کاشت کے وقت
سلفر / پوٹاش، اگر ضرورت ہو
غذائی کمی پوری کرنا
ابتدائی بڑھوتری
یوریا
نائٹروجن کی فراہمی
پہلے پانی کے قریب
باقی نائٹروجن، اگر ضرورت ہو
فصل کی بڑھوتری
بعد کے مراحل
صرف ضرورت کے مطابق
اضافی خرچ سے بچاؤ
نوٹ: یہ جدول ایک عمومی رہنمائی ہے، حتمی کھاد شیڈول نہیں۔ زمین کے تجزیے اور مقامی سفارش کے مطابق مقدار کم یا زیادہ ہو سکتی ہے۔
پنجاب کا Soil Fertility Research Institute بھی زمین اور فصل کی غذائی ضرورت کے مطابق site-specific fertilizer recommendations کی اہمیت بیان کرتا ہے۔
یاد رہے کہ مختلف فصلوں میں کھاد کا شیڈول فصل کی ضرورت، زمین کی زرخیزی اور مٹی کے تجزیے کے مطابق تبدیل ہوتا ہے۔
اگر آپ کماد کی فصل کے لیے یوریا، DAP، پوٹاش اور دوسری کھادوں کا الگ مکمل شیڈول دیکھنا چاہتے ہیں تو ہماری کماد کی کھادوں کا مکمل شیڈول والی گائیڈ بھی پڑھ سکتے ہیں۔
سرسوں میں کھاد ڈالنے کا صحیح طریقہ
کھاد کو صرف زمین پر پھینک دینا کافی نہیں ہوتا ہے۔ خاص طور پر فاسفورس والی کھاد کو جڑوں کے قریب مناسب جگہ پر دستیاب ہونا چاہیے۔
ڈرل سے کاشت کی صورت میں قطاروں کا مناسب فاصلہ رکھنے اور کھاد کو فصل کی جڑوں کے نظام کے مطابق دینے سے غذائی اجزا کے بہتر استعمال میں مدد مل سکتی ہے۔
کھاد کو بیج کے عین ساتھ زیادہ مقدار میں رکھنے سے بھی گریز کریں، کیونکہ زیادہ مرتکز کھاد بیج کے اگاؤ کو متاثر کر سکتی ہے۔
سرسوں میں کھاد کے استعمال میں عام غلطیاں
1۔ زمین کا تجزیہ کیے بغیر ہر سال ایک ہی مقدار ڈالنا
ہر کھیت کی غذائی حالت ایک جیسی نہیں ہوتی۔ اس لیے پچھلی فصل اور زمین کی حالت کو بھی مدنظر رکھیں۔
2۔ پوری یوریا ایک ہی وقت پر ڈال دینا
فصل کی ضرورت اور آبپاشی کو دیکھتے ہوئے نائٹروجن کی تقسیم زیادہ مناسب ہو سکتی ہے۔
3۔ صرف یوریا پر توجہ دینا
سرسوں کو صرف نائٹروجن نہیں بلکہ فاسفورس، پوٹاش اور بعض زمینوں میں سلفر سمیت دوسرے غذائی اجزا کی بھی ضرورت ہو سکتی ہے۔
4۔ سلفر کی ضرورت کو نظر انداز کرنا
خصوصاً ایسی زمین جہاں سلفر کی کمی ہو، وہاں سلفر کی فراہمی کو نظر انداز کرنا فصل کی غذائی کارکردگی کو متاثر کر سکتا ہے۔
5۔ ضرورت کے بغیر مائیکرو نیوٹرینٹس ڈالنا
زنک یا بوران کو صرف اس وجہ سے استعمال نہ کریں کہ کسی دوسرے کھیت میں اس کا فائدہ ہوا تھا۔
سرسوں میں کھاد اور پانی کا کیا تعلق ہے؟
کھاد کا فائدہ اس وقت بہتر طور پر حاصل ہوتا ہے جب فصل کو مناسب نمی دستیاب ہو۔
بہت خشک زمین میں کھاد ڈالنے سے پہلے مٹی کی نمی کی حالت کو دیکھنا ضروری ہے۔ اسی طرح پانی کھڑا رہنے سے بھی فصل کی جڑوں کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔
سرسوں کی آبپاشی کا وقت فصل کی قسم، زمین اور موسم کے مطابق بدل سکتا ہے۔ اس لیے صرف کیلنڈر کے دنوں کے بجائے مٹی کی نمی اور فصل کی حالت کو بھی دیکھیں ضروری ہے۔
کیا کینولا اور سرسوں کی کھاد ایک جیسی ہوتی ہے؟
کینولا اور سرسوں ایک ہی گروپ کی فصلیں ہیں، لیکن ہر قسم اور ہر کھیت کے لیے کھاد کی ضرورت بالکل یکساں نہیں ہوتی ہے۔
پنجاب کے محکمہ زراعت کے مطابق صوبے میں مختلف کینولا اور سرسوں کی اقسام کے لیے الگ الگ علاقوں اور کاشت کے اوقات کی سفارشات موجود ہیں۔
اسی لیے قسم، زمین، آبپاشی اور پچھلی فصل کو دیکھ کر کھاد کا پروگرام بنانا بہتر ہے۔
کینولا اور سرسوں میں فرق جاننے کےلیے ہمارا مضمون کینولا اور سرسوں میں کیا فرق ہے؟ مکمل گائیڈ پڑھ سکتے ہیں۔
سرسوں کی بہتر پیداوار کے لیے 8 اہم باتیں
- اچھی اور منظور شدہ قسم کا بیج استعمال کریں۔
- زمین کی غذائی حالت معلوم کریں۔
- DAP کو مناسب وقت پر استعمال کریں۔
- یوریا ضرورت کے مطابق تقسیم کرکے دیں۔
- سلفر کی کمی کو نظر انداز نہ کریں۔
- پوٹاش صرف ضرورت اور سفارش کے مطابق استعمال کریں۔
- مائیکرو نیوٹرینٹس زمین یا فصل کی ضرورت کے مطابق دیں۔
- کھاد کے ساتھ آبپاشی اور جڑی بوٹیوں کا انتظام بھی درست رکھیں۔
نتیجہ
سرسوں کی اچھی اور صحت مند فصل کے لیے صرف زیادہ کھاد ڈالنا کافی نہیں بلکہ صحیح کھاد، مناسب مقدار اور درست وقت زیادہ اہم ہے۔ DAP، یوریا، سلفر اور پوٹاش کا استعمال زمین کی زرخیزی، فصل کی حالت اور مٹی کے تجزیے کے مطابق کرنا چاہیے۔
کاشت کے وقت فاسفورس کی مناسب فراہمی، فصل کی ضرورت کے مطابق نائٹروجن اور جہاں کمی ہو وہاں سلفر یا پوٹاش کا استعمال فصل کی بہتر نشوونما میں مدد دے سکتا ہے۔ اس کے ساتھ بروقت آبپاشی، جڑی بوٹیوں کا کنٹرول اور اچھی قسم کا بیج بھی پیداوار کے لیے اہم ہیں۔
اس لیے سرسوں میں کھاد کا مقصد زیادہ کھاد ڈالنا نہیں بلکہ فصل کی ضرورت کے مطابق متوازن غذائیت فراہم کرنا ہونا چاہیے۔ حتمی مقدار طے کرتے وقت زمین کے تجزیے اور اپنے علاقے کی تازہ محکمہ زراعت کی سفارشات کو ترجیح دیں۔
اکثر پوچھے جانے والے سوالات
سرسوں میں کون سی کھاد ڈالنی چاہیے؟
عام طور پر DAP، یوریا اور ضرورت کے مطابق پوٹاش یا سلفر استعمال کیا جاتا ہے، لیکن حتمی مقدار زمین کے تجزیے اور مقامی سفارش کے مطابق ہونی چاہیے۔
سرسوں میں DAP کب ڈالیں؟
DAP عموماً کاشت کے وقت استعمال کی جاتی ہے تاکہ ابتدائی مرحلے میں فاسفورس دستیاب ہو۔
سرسوں میں یوریا کب ڈالیں؟
یوریا کا وقت زمین، فصل کی بڑھوتری اور آبپاشی کے مطابق طے کیا جاتا ہے۔ بعض سرکاری سفارشات میں اس کا ایک حصہ کاشت کے وقت اور باقی ابتدائی آبپاشی کے ساتھ دینے کا طریقہ بتایا گیا ہے۔
سرسوں کے لیے سلفر کیوں ضروری ہے؟
سلفر پودے میں پروٹین اور تیل سے متعلق اہم حیاتیاتی عمل میں کردار ادا کرتا ہے اور تحقیق میں سلفر کی فراہمی سے سرسوں کی پیداوار کے اجزا میں بہتری دیکھی گئی ہے۔
کیا ہر سرسوں کے کھیت میں پوٹاش ڈالنی چاہیے؟
ہر کھیت میں پوٹاش ضروری نہیں ہے۔ پوٹاش کی ضرورت زمین میں موجود پوٹاش کی مقدار اور فصل کی ضرورت کے مطابق طے کرنا بہتر ہے۔
تحقیق اور ذرائع
اس مضمون میں کھاد کے استعمال سے متعلق معلومات کے لیے محکمہ زراعت پنجاب، Oilseeds Research Institute، Soil Fertility Research Institute اور پاکستان میں سرسوں پر ہونے والی تحقیقی مطالعات کو مدنظر رکھا گیا ہے۔ پنجاب کا Oilseeds Research Institute سرسوں، ریپ سیڈ اور کینولا کی اقسام اور production technology پر تحقیق کرتا ہے۔
سلفر اور پوٹاش کے حوالے سے پاکستان میں کیے گئے تحقیقی تجربات میں بھی سرسوں اور ریپ کی پیداوار پر ان غذائی اجزا کے اثرات کا جائزہ لیا گیا ہے۔

ایک تبصرہ شائع کریں for "سرسوں کی فصل میں کھاد کا استعمال، مقدار اور صحیح وقت"