Skip to content Skip to sidebar Skip to footer

کماد کی کھادوں کا مکمل شیڈول

کماد کی فصل کے لیے مکمل کھاد شیڈول، یوریا، DAP، پوٹاش، زنک، سلفر اور بوران
کماد کی بہتر نشوونما کے لیے یوریا، DAP، پوٹاش، زنک، سلفر اور بوران کا متوازن استعمال اہم ہے۔

 السلام علیکم کسان دوستو! کماد کی فصل اچھی ہو تو صرف ایک کھاد ڈالنے سے کام نہیں چلتا۔ اکثر کسان یوریا پر زیادہ توجہ دیتے ہیں، لیکن کماد کی اچھی بڑھوتری، مضبوط تنے، بہتر جڑوں اور اچھی پیداوار کے لیے زمین کی ضرورت کے مطابق مختلف غذائی اجزا فراہم کرنا ضروری ہوتا ہے۔

کماد میں عام طور پر یوریا، DAP، پوٹاش، زنک، سلفر اور بعض حالات میں بوران استعمال کیے جاتے ہیں۔ لیکن ہر کھیت میں ان سب کی مقدار ایک جیسی نہیں ہونی چاہیے۔ کماد میں کھادوں کا متوازن استعمال جتنا ضروری ہے، اتنا ہی ضروری فصل کو صحیح وقت پر پانی دینا بھی ہے۔ کھاد کے استعمال کے ساتھ آبپاشی کا بہتر شیڈول بنانے کے لیے کماد میں آبپاشی کا مکمل طریقہ بھی ضرور پڑھیں۔

اصل فیصلہ زمین کی زرخیزی، مٹی میں موجود غذائی اجزا، فصل کی حالت اور مٹی کے تجزیے کو دیکھ کر کرنا بہتر ہے۔ پنجاب کی سرکاری زرعی معلومات میں بھی کماد کے لیے کھادوں کی مقدار زمین کی زرخیزی کے مختلف درجوں کے مطابق الگ الگ دی گئی ہے۔ 

اس مضمون کو Pak Agri Info میں آسان الفاظ اور تفصیل سے لکھا گیا ہے کہ کسان دوست اپنی  کماد کی فصل میں کون سی کھاد کب استعمال کی جاتی ہے، فی ایکڑ مقدار کیسے طے ہوتی ہے اور کھاد ڈالتے وقت کن باتوں کا خیال رکھنا چاہیے۔

کماد کی فصل کو کون کون سی کھادیں چاہیے؟

کماد ایک لمبے عرصے تک کھیت میں رہنے والی فصل ہے، اس لیے اس کی غذائی ضروریات بھی کافی ہوتی ہیں۔

عام طور پر کماد کے کھاد پروگرام میں درج ذیل غذائی اجزا پر توجہ دی جاتی ہے:

  • یوریا نائٹروجن فراہم کرتی ہے اور سبز بڑھوتری میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔
  • DAP نائٹروجن کے ساتھ فاسفورس فراہم کرتی ہے۔
  • پوٹاش پودے کی مضبوطی اور مجموعی نشوونما میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔
  • زنک زنک کی کمی والی زمینوں میں ضرورت پوری کرنے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔
  • سلفر بعض زمینوں میں سلفر کی کمی پوری کرنے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔
  • بوران صرف ضرورت یا کمی کی صورت میں استعمال کرنا بہتر ہے۔

نوٹ:  یہ بات یاد رکھیں کہ زیادہ کھاد ڈالنا ہمیشہ زیادہ پیداوار کی ضمانت نہیں ہوتا۔ کھاد کی مقدار زمین کی ضرورت کے مطابق ہونی چاہیے۔

کماد میں یوریا کب اور کتنی ڈالیں؟

یوریا کماد میں استعمال ہونے والی اہم نائٹروجنی کھاد ہے۔ کسان عام طور پر کماد کی سبز بڑھوتری اور پودے کی تیزی سے نشوونما کے لیے یوریا استعمال کرتے ہیں۔

لیکن یوریا کی پوری مقدار ایک ہی وقت میں ڈالنے کے بجائے اسے فصل کی ضرورت کے مطابق مختلف اقساط میں دینا زیادہ مناسب ہو سکتا ہے۔

پنجاب کی سرکاری Meri Zameen سفارشات میں بھی کماد کے لیے نائٹروجن کی مقدار زمین کی زرخیزی کے مطابق مختلف رکھی گئی ہے۔ کمزور، درمیانی اور زرخیز زمین کے لیے الگ مقداریں دی گئی ہیں۔ 

یوریا استعمال کرتے وقت اہم بات:

یوریا کو صرف کیلنڈر دیکھ کر نہیں بلکہ فصل کی حالت، زمین اور آبپاشی کو دیکھ کر استعمال کریں۔ اگر زمین پہلے ہی نائٹروجن سے بھرپور ہے تو بلا ضرورت زیادہ یوریا ڈالنے سے فائدہ ضروری نہیں کہ بڑھے۔

کماد میں DAP کی مقدار اور استعمال کا صحیح وقت

ڈی اے پی (DAP) کماد میں فاسفورس فراہم کرنے کے لیے عام طور پر استعمال کی جاتی ہے۔ عام 50 کلوگرام DAP میں 18 فیصد نائٹروجن اور 46 فیصد P₂O₅ ہوتا ہے۔ پنجاب کی سرکاری معلومات میں بھی DAP کا یہی گریڈ درج ہے۔ 

فاسفورس مٹی میں نسبتاً کم حرکت کرتا ہے، اس لیے اسے کماد کی کاشت کے وقت مناسب جگہ پر مٹی میں شامل کرنا زیادہ مفید ہو سکتا ہے۔

پنجاب کی سفارشات میں زمین کی زرخیزی کے مطابق DAP کی مقدار مختلف دی گئی ہے، مثلاً کمزور زمین کے لیے 3 بوری، درمیانی زمین کے لیے 2.5 بوری اور زرخیز زمین کے لیے 2 بوری فی ایکڑ کی مثال دی گئی ہے۔ یہ مقداریں مخصوص زمین کی زرخیزی اور سرکاری سفارشات کے تناظر میں ہیں، لیکن ہر کھیت کے لیے یہ لازمی مقدار نہیں ہے۔

اگر آپ DAP کے بارے میں مکمل معلومات چاہتے ہیں تو یہاں کماد میں فاسفورس (DAP) کی اہمیت، فوائد، مقدار اور استعمال کا صحیح وقت والا مضمون پڑھ سکتے ہیں۔

کماد میں پوٹاش کا استعمال

پوٹاش کماد کی غذائی ضروریات میں اہم کردار رکھتی ہے۔ خاص طور پر ایسی زمینوں میں جہاں پوٹاش کی کمی ہو، اس غذائی عنصر کی مناسب فراہمی پر توجہ دینا ضروری ہے۔

پوٹاش کے لیے عام طور پر SOP اور MOP جیسی کھادیں استعمال کی جاتی ہیں۔

سندھ محکمہ زراعت بھی کماد میں متوازن کھادوں کے استعمال اور پوٹاش کو نظر انداز نہ کرنے کی اہمیت بیان کرتا ہے۔

اگر آپ پوٹاش کے فوائد اور استعمال کا مکمل طریقہ جاننا چاہتے ہیں تو کماد میں پوٹاش کی اہمیت، فوائد، استعمال اور صحیح وقت والا مضمون بھی پڑھیں۔

کماد میں زنک کب استعمال کریں؟

زنک ایک مائیکرو نیوٹرینٹ ہے اور اس کی ضرورت بڑی مقدار میں نائٹروجن یا پوٹاش کی طرح نہیں ہوتی۔

اس لیے ہر کھیت میں بغیر ضرورت زنک ڈالنا ضروری نہیں۔ اگر مٹی کے تجزیے سے زنک کی کمی سامنے آئے یا مقامی زرعی ماہر ضرورت بتائے تو زنک کا استعمال کیا جا سکتا ہے۔

زنک کی مقدار کا فیصلہ کھاد کی قسم، زمین اور فصل کی ضرورت کو دیکھ کر کرنا چاہیے۔

آپ کماد میں زنک کے فوائد، کمی کی علامات اور استعمال کے بارے میں ہماری تفصیلی تحریر کماد میں زنک کی اہمیت، فوائد، استعمال اور مکمل رہنمائی بھی پڑھ سکتے ہیں۔

کماد میں سلفر کی اہمیت

سلفر بھی پودے کے لیے ضروری غذائی عنصر ہے۔ بعض زمینوں میں سلفر کی کمی ہو سکتی ہے، خاص طور پر جہاں مسلسل فصلیں کاشت کی جا رہی ہوں اور زمین میں نامیاتی مادے کی مقدار کم ہو۔

سلفر کی ضرورت پوری کرنے کے لیے مختلف کھادیں استعمال کی جا سکتی ہیں۔ مثال کے طور پر امونیم سلفیٹ نائٹروجن کے ساتھ سلفر بھی فراہم کرتا ہے۔

لیکن سلفر کی مقدار بھی زمین کی ضرورت کے مطابق ہونی چاہیے۔

اگر آپ امونیم سلفیٹ، ہومک ایسڈ اور سلفر کے بارے میں تفصیل چاہتے ہیں تو کماد میں امونیم سلفیٹ، سلفر اور ہومک ایسڈ کے فوائد والا مضمون پڑھ سکتے ہیں۔

کماد میں بوران کا استعمال

بوران مائیکرو نیوٹرینٹ ہے اور پودے کو اس کی ضرورت بہت کم مقدار میں ہوتی ہے۔ اسی وجہ سے بوران کو عام کھادوں کی طرح ہر کھیت میں زیادہ مقدار میں استعمال نہیں کرنا چاہیے۔

اگر مٹی کے تجزیے یا فصل کی علامات سے بوران کی کمی کا امکان ہو تو مقامی زرعی ماہر سے مشورہ کرکے مناسب مقدار استعمال کرنا بہتر ہے۔

بوران کے بارے میں مکمل معلومات کے لیے کماد میں بوران کی اہمیت، فوائد، کمی کی علامات اور استعمال کا طریقہ والا مضمون بھی پڑھیں۔

کماد کی فی ایکڑ مکمل کھاد کتنی ہونی چاہیے؟

کماد میں یوریا، DAP اور پوٹاش کی زمین کی حالت کے مطابق مقدار
کماد میں کھاد کی مقدار زمین کی زرخیزی اور فصل کی ضرورت کے مطابق طے کی جاتی ہے۔

یہ وہ سوال ہے جو تقریباً ہر کسان پوچھتا ہے کہ ایک ایکڑ کماد میں یوریا، DAP اور پوٹاش کی کتنی بوریاں ڈالیں؟

اس کا جواب ہر زمین کے لیے ایک جیسا نہیں ہے۔

پنجاب ایگریکلچر ڈیپارٹمنٹ کی معلومات میں کماد کے لیے زمین کو کمزور، درمیانی اور زرخیز درجوں میں تقسیم کرکے الگ الگ غذائی مقداریں اور کھادوں کی مثالیں دی گئی ہیں۔ 

مثال کے طور پر سرکاری جدول میں:

زمین کی حالت یوریا DAP پوٹاش
کمزور زمین 4 بوریاں 3 بوریاں تقریباً 1¾ بوری
درمیانی زمین 2¾ بوریاں 2½ بوریاں تقریباً 1¾ بوری
زرخیز زمین 3 بوریاں 2 بوریاں تقریباً 1¾ بوری

نوٹ:  یہ سرکاری سفارشات میں دی گئی مثالیں ہیں، ہر کھیت کے لیے حتمی نسخہ نہیں۔ اپنی زمین کی اصل حالت کے مطابق مقدار طے کرنا بہتر ہے۔

کماد میں کھاد ڈالنے کا آسان طریقہ

کھاد کا فائدہ صرف مقدار پر منحصر نہیں ہوتا بلکہ اسے کب اور کہاں ڈالا گیا ہے، یہ بھی اہم ہے۔
کماد میں کھاد ڈالنے کا صحیح وقت اور طریقہ، یوریا، DAP اور پوٹاش کا استعمال
کھاد صحیح وقت، مناسب مقدار اور پودے کے قریب درست جگہ پر دینے سے غذائی اجزا کے بہتر استعمال میں مدد ملتی ہے۔

1۔ کاشت کے وقت

کاشت کے وقت عموماً فاسفورس اور پوٹاش والی کھادوں کو مناسب جگہ پر مٹی میں شامل کیا جاتا ہے۔

سندھ محکمہ زراعت کی معلومات میں بھی فاسفورس اور پوٹاش کی مکمل مقدار کاشت کے وقت دینے اور انہیں کماد کی قطاروں میں مناسب جگہ رکھنے کی سفارش موجود ہے۔ 

2۔ ابتدائی بڑھوتری کے دوران

فصل کی حالت دیکھتے ہوئے نائٹروجن والی کھاد یعنی یوریا کو اقساط میں استعمال کیا جا سکتا ہے۔
پہلے 30 دن میں کھاد کے ساتھ ساتھ آبپاشی، اگاؤ اور جڑی بوٹیوں کا خیال رکھنا بھی اتنا ہی ضروری ہے۔ اس مکمل مرحلے کے بارے میں ہماری رہنمائی ستمبر کاشت کماد کی ابتدائی 30 دن کی دیکھ بھال بھی دیکھیں۔

3۔ بعد کی بڑھوتری میں

باقی یوریا فصل کی ضرورت، زمین، آبپاشی اور مقامی سفارش کے مطابق تقسیم کی جا سکتی ہے۔

ایک ہی وقت میں پوری نائٹروجن کھاد ڈالنے کی بجائے اسے فصل کی ضرورت کے مطابق تقسیم کرنا زیادہ مناسب ہو سکتا ہے۔

اگر کماد کے ساتھ کنولا یا سرسوں بطور بین فصل کاشت کی جائے تو کھاد کا انتظام مزید سوچ سمجھ کر کرنا چاہیے، کیونکہ ایک ہی کھیت میں دونوں فصلیں غذائی اجزا استعمال کرتی ہیں۔ بین فصل کی کامیاب کاشت کے لیے صرف کھاد ہی نہیں بلکہ صحیح وقت، مناسب قسم اور بیج کی شرح بھی اہم ہے۔ کینولہ اور سرسوں کی کاشت کا صحیح وقت، منظور شدہ اقسام اور بیج کی شرح کی مکمل معلومات یہاں موجود ہیں۔

کیا کماد میں ساری کھاد ایک ہی وقت میں ڈال دینی چاہیے؟

نہیں، عام طور پر ایسا کرنا مناسب نہیں۔

خاص طور پر یوریا کی پوری مقدار ایک ہی وقت میں ڈالنے کے بجائے فصل کی ضرورت کے مطابق اسے اقساط میں استعمال کیا جا سکتا ہے۔

نوٹ:  دوسری طرف فاسفورس اور پوٹاش کی کھادوں کا وقت اور جگہ بھی اہم ہے۔ سندھ محکمہ زراعت کی سفارشات میں فاسفورس اور پوٹاش کو کاشت کے وقت دینے کی ہدایت موجود ہے، جبکہ نائٹروجن کھاد کو بعد میں اقساط میں دینے کا طریقہ بیان کیا گیا ہے۔ 
کھاد کا اثر تب ہی بہتر ملتا ہے جب زمین میں نمی مناسب ہو۔ اس لیے پہلا پانی کب اور کیسے دیا جائے، اس بارے میں ہماری رہنمائی ستمبر کاشت کماد کو پہلا پانی کب دیں؟ بھی ضرور دیکھیں۔

مٹی کا ٹیسٹ کیوں ضروری ہے؟

اگر آپ واقعی اپنی کماد کی فصل کے لیے مناسب کھاد پروگرام بنانا چاہتے ہیں تو مٹی کا ٹیسٹ سب سے بہتر آغاز ہے۔ مٹی کے ٹیسٹ سے یہ معلوم کرنے میں مدد ملتی ہے کہ زمین میں فاسفورس، پوٹاش اور دوسرے غذائی اجزا کی موجودہ حالت کیا ہے۔

سندھ محکمہ زراعت بھی کھاد کے استعمال سے پہلے مٹی کا تجزیہ کرنے کی اہمیت پر زور دیتا ہے۔ 

نوٹ:  اس طرح کسان دوستو! صرف اندازے سے کھاد ڈالنے کے بجائے زمین کی اصل ضرورت کے مطابق فیصلہ کر سکتا ہے۔

کماد میں کھاد ڈالتے وقت 7 اہم غلطیوں سے بچیں

  1. صرف یوریا پر زیادہ توجہ نہ دیں۔
  2. دوسرے کسان کے کھاد شیڈول کو اپنی زمین پر جوں کا توں استعمال نہ کریں۔
  3. مٹی کے ٹیسٹ کے بغیر مائیکرو نیوٹرینٹس کی زیادہ مقدار استعمال نہ کریں۔
  4. DAP کو یوریا کا مکمل متبادل نہ سمجھیں۔
  5. پوٹاش کو نظر انداز نہ کریں، خاص طور پر اگر زمین میں اس کی کمی ہو۔
  6. تمام کھاد ایک ہی وقت میں ڈالنے کے بجائے فصل کی ضرورت اور کھاد کی قسم کے مطابق وقت مقرر کریں۔
  7. کھاد کی مقدار طے کرتے وقت مقامی محکمہ زراعت یا زرعی ماہر کی سفارش کو ترجیح دیں۔

کماد کی کھاد کا بہترین شیڈول کیسے بنائیں؟

کسان دوستو، کماد کے لیے بہترین کھاد شیڈول وہ نہیں جو ہر کھیت میں ایک جیسا ہو۔ بہتر شیڈول وہ ہے جو مٹی کے ٹیسٹ، زمین کی زرخیزی، فصل کی قسم، کاشت کے وقت اور فصل کی حالت کو دیکھ کر بنایا جائے۔

بنیادی طور پر آپ کو تین چیزوں پر خاص توجہ دینی چاہیے:
  • نائٹروجن → یوریا
  • فاسفورس → DAP یا دوسری فاسفورس والی کھاد
  • پوٹاش → SOP یا MOP
اس کے بعد اگر زمین میں زنک، سلفر یا بوران کی کمی ہو تو ان غذائی اجزا کو بھی مناسب مقدار میں شامل کیا جا سکتا ہے۔

کماد کو مناسب کھاد دینے کے ساتھ کھیت کو جڑی بوٹیوں سے صاف رکھنا بھی ضروری ہے۔ اگر جڑی بوٹیاں زیادہ ہوں تو وہ زمین سے پانی اور غذائی اجزا حاصل کرکے فصل کے ساتھ مقابلہ کرتی ہیں۔ اس لیے کھاد کے شیڈول کے ساتھ کماد کی جڑی بوٹیوں کے کنٹرول پر بھی توجہ دینی چاہیے۔

نتیجہ

کماد کی اچھی فصل کے لیے صرف یوریا ڈالنا کافی نہیں ہوتا۔ فصل کی ضرورت کے مطابق یوریا، DAP اور پوٹاش سمیت دوسرے غذائی اجزا کا متوازن استعمال زیادہ اہم ہے۔

البتہ ہر زمین کی حالت مختلف ہوتی ہے، اس لیے ایک ہی کھاد کی مقدار کو ہر کھیت کے لیے درست نہیں سمجھنا چاہیے۔

پنجاب کی سرکاری Merizameen سفارشات میں بھی کماد کے لیے کھادوں کی مقدار زمین کی زرخیزی کے مطابق مختلف رکھی گئی ہے، جبکہ سندھ کی سرکاری Sindh Agriculture Department معلومات بھی مٹی کے تجزیے اور متوازن کھاد پروگرام کی اہمیت بیان کرتی ہیں۔  

نوٹ:  اس لیے کسان دوستو، کھاد کی مقدار بڑھانے کے بجائے زمین کی ضرورت کے مطابق کھاد دینا زیادہ سمجھداری ہے۔

اکثر پوچھے جانے والے سوالات

کماد میں یوریا کب ڈالیں؟

یوریا کو فصل کی حالت اور زمین کی ضرورت کے مطابق مختلف اقساط میں استعمال کیا جا سکتا ہے۔ اس کی پوری مقدار ایک ہی وقت میں ڈالنے کے بجائے مقامی سفارش اور فصل کی ضرورت کو دیکھنا بہتر ہے۔

کماد میں DAP کتنی ڈالیں؟

DAP کی مقدار زمین کی زرخیزی کے مطابق مختلف ہو سکتی ہے۔ پنجاب کی سرکاری سفارشات میں کمزور زمین کے لیے 3، درمیانی زمین کے لیے 2.5 اور زرخیز زمین کے لیے 2 بوری DAP فی ایکڑ کی مثال دی گئی ہے۔ 

کماد میں پوٹاش کب ڈالیں؟

پوٹاش کی مقدار اور وقت زمین کی حالت اور مقامی سفارش کے مطابق طے کرنا چاہیے۔ سرکاری سفارشات میں فاسفورس اور پوٹاش کا بڑا حصہ کاشت کے وقت دینے کی ہدایت موجود ہے۔ 

کیا ہر کماد کے کھیت میں زنک اور بوران ڈالنا ضروری ہے؟

کماد کے ہر کھیت میں زنک اور بوران ڈالنا ضروری نہیں۔ زنک اور بوران مائیکرو نیوٹرینٹس ہیں، اس لیے ان کا استعمال زمین کی ضرورت، مٹی کے تجزیے یا ماہر کی سفارش کے مطابق کرنا بہتر ہے۔

کیا کماد میں ساری یوریا ایک ساتھ ڈال سکتے ہیں؟

یوریا کی پوری مقدار ایک ہی وقت میں ڈالنے کے بجائے فصل کی ضرورت کے مطابق اقساط میں دینا زیادہ مناسب ہو سکتا ہے۔

کماد کے لیے بہترین کھاد کون سی ہے؟

کماد کے لیے صرف ایک کھاد کو بہترین کہنا درست نہیں۔ فصل کو مختلف غذائی اجزا کی ضرورت ہوتی ہے، اس لیے زمین کی حالت کے مطابق متوازن کھاد پروگرام بنانا بہتر ہے۔

تحقیق اور ذرائع

اس مضمون کی تیاری میں سرکاری زرعی معلومات سے مدد لی گئی ہے:

  1. پنجاب ایگریکلچر - کماد کے لیے کھادوں کی سفارشات. زمین کی زرخیزی کے مطابق یوریا، DAP، SOP اور MOP کی مقدار۔ 
  2. سندھ ایگریکلچر ڈیپارٹمنٹ - Sugarcane Fertilizer Recommendations. کماد میں متوازن کھادوں، مٹی کے ٹیسٹ اور کھاد ڈالنے کے وقت سے متعلق معلومات۔



ایک تبصرہ شائع کریں for "کماد کی کھادوں کا مکمل شیڈول "