![]() |
| کماد کی اچھی بڑھوتری کے لیے فصل کو ضرورت کے مطابق بروقت پانی دینا ضروری ہے۔ |
کسانوں کے لیے اصل مسئلہ اکثر یہ ہوتا ہے کہ کماد کو کتنے دن بعد پانی دیں؟ گرمی میں آبپاشی کتنی بار کریں؟ سردیوں میں پانی کا وقفہ کتنا رکھا جائے؟ اور اگر پانی کم ہو تو سب سے پہلے کس وقت فصل کو پانی دینا چاہیے؟
اس مضمون کو Pak Agri Info پر آسان اور تفصیل سے لکھا گیا ہے کہ ہم کماد کی آبپاشی کو بہت آسان الفاظ میں سمجھیں گے۔ ساتھ ہی پنجاب اور سندھ کے حالات کو بھی سامنے رکھیں گے تاکہ کسان اپنے علاقے، زمین اور موسم کے مطابق بہتر فیصلہ کر سکے۔
کماد میں آبپاشی کیوں ضروری ہے؟
کماد ایک نسبتاً لمبے عرصے تک کھیت میں رہنے والی فصل ہے، اس لیے اس کی پانی کی ضرورت بھی عام مختصر دورانیے کی فصلوں سے مختلف ہوتی ہے۔
ابتدائی مرحلے میں مناسب نمی نہ ہو تو کماد کے سیٹوں (ٹوٹکوں) کی اگاؤ اور شگوفہ سازی متاثر ہو سکتی ہے۔ بعد میں جب فصل تیزی سے بڑھتی ہے تو پانی کی ضرورت مزید بڑھ جاتی ہے۔
پنجاب کے سرکاری شوگرکین ریسرچ مواد میں بھی آبپاشی کو فصل کی مختلف نشوونما کے مراحل کے مطابق کرنے پر زور دیا گیا ہے۔ تحقیق میں ٹلرنگ اور تنے کی تیز بڑھوتری کے مراحل کو پانی کی کمی کے حوالے سے اہم قرار دیا گیا ہے۔
سادہ الفاظ میں بات یہ ہے کہ:
- شروع میں پانی کی کمی سے اگاؤ متاثر ہو سکتا ہے۔
- شگوفہ سازی کے وقت مناسب نمی ضروری ہے۔
- تنے کی تیز بڑھوتری کے دوران پانی کی ضرورت زیادہ ہوتی ہے۔
- شدید گرمی میں پانی کا وقفہ زیادہ لمبا نہیں ہونا چاہیے۔
- پکنے کے قریب آبپاشی کو فصل کی حالت اور کٹائی کے وقت کے مطابق کم کیا جاتا ہے۔
کماد کو کتنے دن بعد پانی دیں؟
اس سوال کا ایک ہی جواب ہے کہ، پورے پاکستان کے لیے درست نہیں ہو سکتا۔
آبپاشی کا وقفہ ان چیزوں پر منحصر ہوتا ہے:
- موسم کتنا گرم ہے؟
- زمین ریتیلی ہے یا بھاری؟
- زمین میں نمی کتنی دیر برقرار رہتی ہے؟
- نہری پانی دستیاب ہے یا ٹیوب ویل کا؟
- بارش ہوئی ہے یا نہیں؟
- فصل کس عمر میں ہے؟
- فصل کی بڑھوتری کیسی ہے؟
نوٹ: اسی لیے صرف کیلنڈر دیکھ کر ہر کھیت کو ایک ہی دن پانی دینا درست طریقہ نہیں۔ ہلکی زمین میں پانی جلدی ختم ہو جاتا ہے، جبکہ بھاری زمین نمی زیادہ دیر تک محفوظ رکھ سکتی ہے۔
کسان دوست عام طور پر کھیت کی حالت دیکھ کر فیصلہ کرتے ہیں۔ اگر اوپر کی مٹی خشک ہو اور پودے کی بڑھوتری بھی متاثر ہونے لگے تو آبپاشی میں زیادہ تاخیر نہیں کرنی چاہیے۔
پنجاب میں کماد کی آبپاشی کیسے کی جاتی ہے؟
پنجاب میں کماد کی آبپاشی کا طریقہ علاقے، زمین اور پانی کے ذریعہ کے مطابق بدلتا ہے۔ نہری علاقوں میں پانی کی دستیابی بعض اوقات مقررہ وار سے جڑی ہوتی ہے، جبکہ ٹیوب ویل والے کسان اپنے کھیت کی ضرورت کے مطابق وقفہ تبدیل کر سکتے ہیں۔
پنجاب کے سرکاری شوگرکین ریسرچ انسٹیٹیوٹ کے مطابق آبپاشی اور پانی کے بہتر استعمال پر باقاعدہ تحقیق کی جاتی ہے، جبکہ مختلف آبپاشی کی سطحوں کے فصل کی پیداوار اور معیار پر اثرات بھی زیر مطالعہ رہے ہیں۔
عملی طور پر پنجاب کے کسانوں کے لیے سب سے اہم بات یہ ہے کہ:
پانی صرف اس وقت نہ دیں جب پورا کھیت بہت زیادہ خشک ہو جائے، بلکہ فصل کی ضرورت اور مٹی کی نمی کو پہلے دیکھیں۔
نوٹ: خاص طور پر جنوبی پنجاب میں شدید گرمی کے دوران آبپاشی میں زیادہ تاخیر فصل کی بڑھوتری پر اثر ڈال سکتی ہے۔
سندھ میں کماد کو پانی دینے کا طریقہ
سندھ میں گرمی کی شدت اور آبپاشی کی صورتحال کو دیکھتے ہوئے کماد کے لیے پانی کا انتظام بہت اہم ہو جاتا ہے۔
سندھ حکومت کے محکمہ زراعت کی معلومات کے مطابق کماد کو سال کے مختلف موسموں میں آبپاشی کے مختلف وقفوں کی ضرورت ہوتی ہے۔ وہاں دی گئی عمومی رہنمائی میں سردیوں میں تقریباً 15 دن جبکہ گرمیوں میں تقریباً ہفتہ وار آبپاشی کا ذکر ہے، تاہم بارش اور مقامی حالات کے مطابق شیڈول تبدیل کیا جا سکتا ہے۔
یعنی سندھ میں خاص طور پر گرمی کے موسم میں کسان کو فصل کی نمی پر زیادہ نظر رکھنی چاہیے۔
نوٹ: یہ ایک عمومی سرکاری رہنمائی ہے، ہر کھیت کے لیے لازمی شیڈول نہیں۔ زمین، موسم اور پانی کی دستیابی کے مطابق وقفہ تبدیل ہو سکتا ہے۔
گرمیوں میں کماد کو کتنے دن بعد پانی دیں؟
![]() |
| گرمی کے موسم میں کماد کی فصل میں زمین کی نمی کو دیکھتے ہوئے آبپاشی کا وقفہ طے کرنا چاہیے۔ |
اس لیے گرمیوں میں:
- پانی کا وقفہ بہت زیادہ نہ بڑھائیں۔
- ہلکی زمین میں نمی کو زیادہ قریب سے دیکھیں۔
- شدید گرمی میں فصل کے پتوں اور زمین کی حالت پر نظر رکھیں۔
- بارش ہونے کے بعد فوراً دوبارہ آبپاشی نہ کریں۔
- پانی کھیت میں کھڑا نہ رہنے دیں۔
سندھ کی سرکاری رہنمائی میں بھی گرمیوں کے دوران کماد کے لیے زیادہ قریب آبپاشی کا شیڈول دیا گیا ہے۔
سردیوں میں کماد کو کتنے دن بعد پانی دیں؟
سردیوں میں درجہ حرارت کم ہونے کی وجہ سے زمین سے نمی نسبتاً آہستہ ختم ہوتی ہے۔ اس لیے گرمیوں والا آبپاشی کا وقفہ سردیوں میں رکھنے کی ضرورت نہیں ہوتی۔
سردیوں میں پانی دیتے وقت خاص طور پر یہ دیکھیں کہ:
زمین میں پہلے سے نمی موجود تو نہیں؟ اگر مٹی ابھی نم ہے تو صرف مقررہ دن پورا ہونے کی وجہ سے پانی دینے کی ضرورت نہیں۔
سندھ محکمہ زراعت کی عمومی رہنمائی میں سردیوں کے دوران کماد کے لیے تقریباً 15 دن کے وقفے کا ذکر موجود ہے، لیکن مقامی حالات کے مطابق یہ وقفہ کم یا زیادہ ہو سکتا ہے۔
کماد کی فصل میں سب سے اہم آبپاشی کے مراحل
اس ابتدائی مرحلے میں صرف آبپاشی ہی نہیں بلکہ اگاؤ، جڑی بوٹیوں اور ابتدائی کھاد کا مکمل انتظام بھی ساتھ دیکھنا ضروری ہے۔ اس بارے میں ہماری تفصیلی رہنمائی ستمبر کاشت کماد کی ابتدائی 30 دن کی دیکھ بھال بھی پڑھیں۔
اگر ستمبر کاشت کماد کے ساتھ کنولا یا سرسوں بھی بطور بین فصل کاشت کی گئی ہو تو آبپاشی کا فیصلہ دونوں فصلوں کی حالت دیکھ کر کرنا چاہیے۔ پانی کھڑا ہونے سے بچانا اور زمین کی مناسب نمی برقرار رکھنا خاص طور پر اہم ہے۔ کینولہ اور سرسوں کی کاشت کا صحیح وقت، منظور شدہ اقسام اور بیج کی شرح کے بارے میں ہماری تفصیلی گائیڈ بھی دیکھیں۔
کماد میں آبپاشی کا ہر مرحلہ ایک جیسی اہمیت نہیں رکھتا۔
اس ابتدائی مرحلے میں پہلا پانی کب اور کیسے دیا جائے، یہ فیصلہ زمین کی قسم اور موسم دیکھ کر کرنا چاہیے۔ اس بارے میں مکمل رہنمائی ستمبر کاشت کماد کو پہلا پانی کب دیں؟ میں پڑھی جا سکتی ہے۔
1۔ اگاؤ کے بعد ابتدائی مرحلہ
کاشت کے بعد اگر مٹی میں مناسب نمی نہ رہے تو کماد کے سیٹوں کے اگنے میں مسئلہ آ سکتا ہے۔ اس لیے ابتدائی مرحلے میں زمین کو مکمل خشک ہونے سے بچانا ضروری ہے۔
2۔ شگوفہ سازی یا ٹلرنگ
اس مرحلے پر ایک پودے سے زیادہ شگوفے نکلنے لگتے ہیں۔ اگر اس وقت پانی کی شدید کمی ہو تو فصل کی مجموعی تعداد اور بڑھوتری متاثر ہو سکتی ہے۔
3۔ تنے کی تیز بڑھوتری
یہ کماد کا بہت اہم مرحلہ ہے۔ اس دوران فصل تیزی سے بڑھتی ہے اور پانی کی ضرورت بھی بڑھ جاتی ہے۔ پنجاب کی سرکاری تحقیق میں بھی ٹلرنگ اور تنے کی بڑھوتری کے مراحل کو آبپاشی کے حوالے سے اہم قرار دیا گیا ہے۔
4۔ پکنے کا مرحلہ
جب کماد پکنے کی طرف جاتا ہے تو آبپاشی کا طریقہ پہلے جیسا نہیں رہتا۔ کٹائی کے قریب غیر ضروری طور پر مسلسل پانی دیتے رہنا مناسب نہیں۔ سندھ حکومت کی گائیڈنس میں بھی فصل کی کٹائی سے پہلے آبپاشی روکنے کی ہدایت موجود ہے۔
اگر پانی کم ہو تو کماد کو پہلے کب پانی دیں؟
1- یہ سوال بہت اہم ہے، خاص طور پر ان علاقوں میں جہاں نہری پانی محدود ہو یا ٹیوب ویل کا پانی مہنگا پڑتا ہو۔
2۔ اگر پانی کم ہو تو ہر آبپاشی کو برابر اہمیت دینے کے بجائے فصل کے حساس مراحل کو ترجیح دینا بہتر ہے۔
مثلاً:
ٹلرنگ اور تنے کی تیز بڑھوتری کے دوران پانی کی کمی سے بچانے کی کوشش کریں۔
پنجاب کی آبپاشی گائیڈنس میں کماد کو پانی کی کمی کے حوالے سے حساس فصلوں میں شمار کیا گیا ہے اور ٹلرنگا اور stem elongation کو اہم مراحل بتایا گیا ہے۔
کماد میں زیادہ پانی دینے کے نقصانات
اگر زمین میں پانی زیادہ دیر کھڑا رہے تو:
- جڑوں کو ہوا کی کمی ہو سکتی ہے۔
- زمین کی ساخت متاثر ہو سکتی ہے۔
- غذائی اجزا کے ضائع ہونے کا امکان بڑھ سکتا ہے۔
- بیماریوں کا مسئلہ پیدا ہو سکتا ہے۔
- پانی اور بجلی کا غیر ضروری خرچ بڑھتا ہے۔
- خاص طور پر ایسی زمین جہاں پانی کے نکاس کا مسئلہ ہو، وہاں آبپاشی بہت احتیاط سے کرنی چاہیے۔
کماد میں پانی دینے کا بہتر عملی طریقہ
آبپاشی کے دوران پانی کو کھیت میں مناسب طریقے سے تقسیم کرنا اور غیر ضروری پانی کھڑا ہونے سے بچانا اہم ہے۔
کھیت میں صرف یہ دیکھنا کافی نہیں کہ پچھلی آبپاشی کو کتنے دن ہو گئے ہیں۔

ایک آسان طریقہ یہ ہے کہ آبپاشی سے پہلے زمین کو دیکھیں۔ اگر اوپر کی سطح خشک ہے لیکن نیچے مناسب نمی موجود ہے تو فوراً بہت زیادہ پانی دینا ضروری نہیں۔
اسی طرح اگر مٹی اندر تک خشک محسوس ہو رہی ہو اور فصل کی بڑھوتری بھی سست پڑ رہی ہو تو مزید تاخیر مناسب نہیں۔
کسانوں کے عملی مشاہدے میں زمین کی قسم کو ہمیشہ اہمیت دی جاتی ہے۔ ریتیلی زمین میں پانی جلد نیچے چلا جاتا ہے، جبکہ بھاری زمین زیادہ دیر نمی رکھ سکتی ہے۔
اسی لیے "ہر 10 دن بعد پانی" یا "ہر 15 دن بعد پانی" جیسے فارمولے کو ہر کھیت پر آنکھیں بند کرکے لاگو نہیں کرنا چاہیے
کماد کی آبپاشی میں کھاد کا بھی خیال رکھیں
پانی اور کھاد ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں۔
اگر کھاد دینے کے بعد زمین میں مناسب نمی نہ ہو تو پودا غذائی اجزا کو مناسب طریقے سے استعمال نہیں کر پاتا۔ دوسری طرف بہت زیادہ پانی دینے سے غذائی اجزا کے ضائع ہونے کا مسئلہ بھی پیدا ہو سکتا ہے۔
اسی لیے کماد کی فصل میں یوریا، DAP اور پوٹاش کا پروگرام بناتے وقت آبپاشی کو بھی ساتھ دیکھنا چاہیے۔
اگر آپ نے ابھی تک ہماری کماد میں کھادوں کا مکمل شیڈول نہیں پڑھا تو اسے بھی ضرور دیکھیں۔
کماد کی فصل میں یوریا، DAP، پوٹاش، زنک اور سلفر کا استعمال ایک ہی وقت پر نہیں کیا جاتا، بلکہ فصل کی ضرورت اور مرحلے کے مطابق کیا جاتا ہے۔
کماد میں پوٹاش کی اہمیت اور اسے استعمال کرنے کا صحیح وقت جاننے کے لیے کماد میں پوٹاش کی اہمیت، فوائد اور استعمال بھی پڑھیں۔
فاسفورس اور DAP کے استعمال کو سمجھنے کے لیے کماد میں DAP کی مقدار اور استعمال کا صحیح وقت بھی دیکھ سکتے ہیں۔
کماد میں آبپاشی کرتے وقت 8 اہم باتیں
- پانی زمین کی ضرورت دیکھ کر دیں۔
- گرمیوں میں آبپاشی میں غیر ضروری تاخیر نہ کریں۔
- ہلکی اور بھاری زمین کے لیے ایک ہی وقفہ نہ رکھیں۔
- بارش کے بعد مٹی کی نمی ضرور چیک کریں۔
- پانی کھیت میں زیادہ دیر کھڑا نہ رہنے دیں۔
- ٹلرنگ اور تنے کی تیز بڑھوتری کے دوران پانی کی کمی سے بچائیں۔
- کٹائی کے قریب آبپاشی فصل کی حالت اور کٹائی کے وقت کے مطابق کم کریں۔
- جہاں پانی کم ہو وہاں آبپاشی کو اہم مراحل کے مطابق ترجیح دیں۔
کماد میں آبپاشی کے ساتھ پانی کی بچت کیسے کریں؟
کھیت کی اچھی ہمواری سے پانی کی تقسیم بہتر ہو سکتی ہے۔ پنجاب کا محکمہ زراعت بھی پانی کے بہتر استعمال کے لیے واٹر مینجمنٹ، زمین کی درست ہمواری اور زیادہ مؤثر آبپاشی کے طریقوں پر کام کر رہا ہے۔
نوٹ: بڑے رقبے یا مناسب حالات میں ڈرپ جیسے جدید نظام بھی استعمال کیے جا سکتے ہیں، لیکن عام نہری یا ٹیوب ویل والے کھیت میں بھی پانی کی درست تقسیم اور مناسب آبپاشی سے کافی فرق پڑ سکتا ہے۔
کیا کماد میں ڈرپ آبپاشی کی جا سکتی ہے؟
جی ہاں، کماد ڈرپ آبپاشی کے لیے موزوں فصلوں میں شامل ہے۔ پنجاب کے محکمہ زراعت کے مطابق ڈرپ آبپاشی پانی اور دیگر زرعی اجزا کو پودے کی جڑوں کے قریب زیادہ مؤثر طریقے سے پہنچانے میں مدد دیتی ہے، اور کماد بھی ان فصلوں میں شامل ہے جن میں یہ نظام استعمال کیا جا سکتا ہے۔
لیکن ہر چھوٹے کسان کے لیے ڈرپ لگانا ضروری نہیں۔ پہلے پانی کی دستیابی، رقبہ، لاگت اور نظام کی دیکھ بھال کو دیکھنا چاہیے۔
کسانوں کے لیے آسان آبپاشی کا اصول
اگر اس پورے مضمون کو ایک آسان بات میں سمجھیں تو اصول یہ ہے:
کماد کو پانی صرف دن گن کر نہیں بلکہ زمین، موسم اور فصل کی حالت دیکھ کر دیں۔ گرمی میں وقفہ کم ہو سکتا ہے، سردی میں بڑھ سکتا ہے، ہلکی زمین میں جلدی پانی کی ضرورت پڑ سکتی ہے اور بھاری زمین میں دیر سے ہو سکتی ہے۔
آبپاشی کے بعد کماد کے ساتھ جڑی بوٹیوں کی افزائش پر بھی نظر رکھیں۔ خاص طور پر نئی فصل میں نمی ملنے کے بعد بعض جڑی بوٹیاں تیزی سے بڑھ سکتی ہیں اور کماد کے پودوں کے ساتھ پانی اور غذائی اجزا کے لیے مقابلہ کرتی ہیں۔ کماد میں جڑی بوٹیوں کے مؤثر کنٹرول کے بارے میں مکمل طریقہ ہماری اس رہنمائی میں پڑھیں۔
اور سب سے اہم بات:
کماد کو نہ شدید پیاسا رکھیں اور نہ ہی کھیت میں پانی کھڑا کریں۔
اکثر پوچھے جانے والے سوالات
کماد کو کتنے دن بعد پانی دینا چاہیے؟
گرمیوں میں کماد کو کتنے دن بعد پانی دیں؟
کماد میں سب سے اہم آبپاشی کا وقت کون سا ہے؟
کیا کماد میں زیادہ پانی دینا نقصان دہ ہے؟
جی ہاں۔ ضرورت سے زیادہ پانی اور پانی کا کھڑا رہنا جڑوں اور زمین کے لیے نقصان دہ ہو سکتا ہے، خاص طور پر ناقص نکاس والی زمین میں۔کیا بارش کے بعد کماد کو دوبارہ پانی دینا چاہیے؟
ضروری نہیں۔ پہلے زمین میں موجود نمی دیکھیں۔ اگر بارش سے مناسب نمی پوری ہو گئی ہے تو فوراً آبپاشی کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔کیا پانی کم ہو تو کماد کی آبپاشی کم کی جا سکتی ہے؟
پانی کی کمی کی صورت میں آبپاشی کو فصل کے اہم مراحل کے مطابق ترجیح دینا بہتر ہے، خاص طور پر ٹلرنگ اور تنے کی تیز بڑھوتری کے دوران۔نتیجہ
تحقیق اور ذرائع
- Punjab Agriculture Department — Sugarcane Research Institute۔ کماد میں آبپاشی، پانی کے بہتر استعمال اور مختلف آبپاشی کی سطحوں پر تحقیق۔
- Sindh Agriculture Department — Irrigation Guidance۔ کماد کے لیے مختلف موسموں میں آبپاشی کے عمومی وقفے۔
- Punjab Agriculture — Cane and Sugar Production۔ کماد کے اہم نشوونما کے مراحل اور آبپاشی کی اہمیت۔


ایک تبصرہ شائع کریں for "کماد میں آبپاشی کا مکمل طریقہ | صحیح وقت، پانی کی مقدار اور آبپاشی کا شیڈول"