Skip to content Skip to sidebar Skip to footer

کماد میں جڑی بوٹیوں کا کنٹرول | مؤثر طریقے اور بچاؤ

 

کماد میں جڑی بوٹیوں کا کنٹرول
کماد کی ابتدائی نشوونما کے دوران جڑی بوٹیوں کا بروقت کنٹرول فصل کی بہتر بڑھوتری میں مدد دیتا ہے۔

کسان دوستو! میں نے اپنے کھیتوں میں کئی بار یہ تجربہ کیا ہے کہ جب بھی کماد کی فصل کمزور نکلی، اس کی وجہ زیادہ تر کھاد یا پانی کی کمی نہیں بلکہ جڑی بوٹیاں تھیں جنہیں شروع میں نظر انداز کر دیا گیا۔ کماد (گنا) جب نیا نیا اگتا ہے تو پودے چھوٹے ہوتے ہیں اور قطاروں کے درمیان کافی جگہ خالی رہتی ہے، اور یہی خالی جگہ جڑی بوٹیوں کے لیے سب سے سازگار موقع بن جاتی ہے۔

جڑی بوٹیاں کماد سے پانی، خوراک، روشنی اور جگہ چھین لیتی ہیں۔ اگر شروع میں انہیں نہ روکا جائے تو بعد میں ان پر قابو پانا کافی محنت اور خرچہ مانگتا ہے۔ اسی لیے میں ہمیشہ اپنے کسان بھائیوں کو یہی مشورہ دیتا ہوں کہ جڑی بوٹی کو "بڑی ہونے دو، پھر نمٹیں گے" کی سوچ چھوڑ دیں۔

اس مضمون کو Pak Agri Info میں میں اپنے تجربے کی بنیاد پر بتاؤں گا کہ کماد میں کون سی جڑی بوٹیاں زیادہ آتی ہیں، پہلی گوڈی کب کرنی چاہیے، اور جڑی بوٹی مار دوا کب اور کیسے استعمال کرنی چاہیے۔

جڑی بوٹیاں کماد کو نقصان کیوں دیتی ہیں؟

سیدھی سی بات ہےکہ جتنے وسائل کماد کے پودے کو چاہیے، وہی وسائل جڑی بوٹیاں بھی چاہتی ہیں۔ جب دونوں ایک ہی زمین میں ایک ساتھ اگتے ہیں تو نقصان کماد (گنا) کی فصل کو ہی ہوتا ہے۔ کیونکہ نیا پودا ابھی مقابلہ کرنے کے قابل نہیں ہوتا۔

  1. زمین کی نمی جلدی ختم ہو جاتی ہے۔
  2. کھاد کا کچھ حصہ جڑی بوٹیاں کھا جاتی ہیں۔
  3. کماد کے پودوں کو دھوپ کم ملتی ہے۔
  4. فصل کی ابتدائی بڑھوتری سست پڑ جاتی ہے۔
  5. بعد میں گوڈی اور دیگر کام بھی مشکل ہو جاتے ہیں۔

اسی لیے میں ہمیشہ کہتا ہوں کہ صرف پانی اور کھاد پر توجہ دینا کافی نہیں ہوتا، جڑی بوٹیوں پر نظر رکھنا بھی اتنا ہی ضروری کام ہے۔

میرے کھیت میں عام طور پر کون سی جڑی بوٹیاں آتی ہیں؟

کماد کی فصل میں اگنے والی مختلف جڑی بوٹیاں
کماد کے کھیت میں جڑی بوٹیاں پانی، غذائی اجزا اور روشنی کے لیے فصل کے ساتھ مقابلہ کرتی ہیں۔
ہر علاقے اور ہر زمین میں جڑی بوٹیاں مختلف ہو سکتی ہیں۔ یہ اس بات پر منحصر ہے کہ پچھلی فصل کونسی تھی، پانی کیسا تھا اور موسم کیسا رہا۔ میرے تجربے اور علاقے میں یہ تین بوٹیاں سب سے زیادہ نظر آتی ہیں۔

1۔ ڈیلا

یہ سب سے ضدی جڑی بوٹی ہے۔ اگر شروع میں نہ روکی جائے تو زمین میں اتنی مضبوطی سے جم جاتی ہے کہ بعد میں نکالنا ایک الگ ہی مسئلہ بن جاتا ہے۔

2۔ ڈھاب

یہ بہت تیزی سے پھیلنے والی گھاس ہے۔ قطاروں کے درمیان خالی جگہ دیکھ کر یہ فوراً قبضہ کر لیتی ہے اور فصل کے ساتھ مسلسل مقابلہ کرتی رہتی ہے۔

3۔ جنگلی جوار

کچھ علاقوں میں یہ بھی کافی مسئلہ بنتی ہے۔ اسے وقت پر پہچاننا ضروری ہے، ورنہ یہ کماد جتنی اونچائی تک بھی پہنچ سکتی ہے۔

نوٹ:  ہر جڑی بوٹی کا علاج ایک جیسا نہیں ہوتا۔ پہلے پہچانیں کہ کھیت میں کون سی گھاس ہے، پھر اسی کے مطابق طریقہ چنیں۔

جڑی بوٹیاں سب سے زیادہ نقصان کب دیتی ہیں؟

نئی کاشت کے پہلے چند ہفتے سب سے حساس ہوتے ہیں۔ اس وقت کماد کے پودے چھوٹے ہوتے ہیں اور زمین زیادہ تر خالی ہوتی ہے۔ اگر نمی اچھی ہو تو جڑی بوٹیاں بھی کماد جتنی ہی تیزی سے، بلکہ کبھی اس سے بھی تیز اگتی ہیں۔

میں ان حالات میں خاص طور پر چوکنا ہو جاتا ہوں:

  • پانی دینے کے بعد نئی جڑی بوٹیاں نکل رہی ہوں۔
  • پچھلی فصل میں جڑی بوٹیوں کا مسئلہ رہا ہو۔
  • کماد کا اگاؤ کمزور یا غیر یکساں ہو۔
  • کھیت میں پہلے سے کچھ گھاس موجود ہو۔
  • گوڈی میں کسی وجہ سے دیر ہو رہی ہو۔

میرا تجربہ یہی کہتا ہے کہ جڑی بوٹی کو چھوٹی حالت میں نکالنا، بڑی ہونے کے بعد نکالنے سے کہیں آسان اور سستا پڑتا ہے۔

پہلی گوڈی کب کروں؟

یہ سوال ہر کسان پوچھتا ہے، لیکن سچ یہ ہے کہ اس کا کوئی ایک مقررہ دن نہیں ہوتا۔ میں خود کیلنڈر دیکھ کر گوڈی کا فیصلہ نہیں کرتا اپنے کھیت کی حالت دیکھ کر کرتا ہوں۔

جیسے ہی جڑی بوٹیاں قطاروں کے درمیان نمایاں ہونا شروع ہوں اس سے پہلے ہی گوڈی کر لینی چاہیے۔ ایک احتیاط ضرور کریں، کماد کے نئے پودوں کے قریب زیادہ گہری گوڈی نہ کریں، ورنہ جڑوں کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔ اگر ٹریکٹر ہل سے گوڈی کر رہے ہیں تو قطاروں کا فاصلہ ضرور مدنظر رکھیں۔

ہاتھ سے جڑی بوٹیاں نکالنا — سادہ مگر مؤثر طریقہ

کماد کی قطاروں کے درمیان گوڈی کرکے جڑی بوٹیاں ختم کرتا کسان
کماد کی ابتدائی فصل میں مناسب وقت پر گوڈی جڑی بوٹیوں کی افزائش کم کرنے میں مددگار ثابت ہوتی ہے۔
اگر جڑی بوٹیاں کم تعداد میں ہوں تو میں اکثر ہاتھ سے نکالنے کو ترجیح دیتا ہوں، خاص طور پر نئی کاشت میں جہاں کچھ جڑی بوٹیاں کماد کے پودے کے بالکل قریب اگ آتی ہیں اور ٹریکٹر یا کدال سے نکالنے میں پودے کو نقصان کا خطرہ ہوتا ہے۔

چھوٹی جڑی بوٹی کو ابھی نکال دینا، بعد میں بڑی ہونے پر اس سے نمٹنے سے کہیں کم محنت طلب ہے۔ لیکن میرا مشورہ یہ بھی ہے کماد میں ہل چلانے سے کماد (گنا) کی قطاروں میں جڑی بوٹیوں رہ جاتی ہیں۔ اس لیے اس پر کڑی بوٹی مار زہر استعمال کیا جا سکتا ہے۔ 

جڑی بوٹی مار ادویات آپ زرعی ماہر کی مدد سے حاصل کریں، ایسی زرعی ادویات کا استعمال کا جا سکتا ہے جو جڑی بوٹیوں کے مطابق ہو تاکہ اس کا کنٹرول زیادہ عرصے تک رہے۔

پانی دینے کے بعد کھیت دوبارہ دیکھیں

میں نے یہ بات تجربے سے سیکھی ہےکہ آبپاشی کے بعد جڑی بوٹیاں اکثر تیزی سے نکلتی ہیں، کیونکہ زمین میں تازہ نمی آتی ہے۔ اس لیے پانی دینے کے ایک دو دن بعد کھیت کا دوبارہ چکر ضرور لگائیں۔ تاکہ نئی جڑی بوٹیاں نظر آئیں تو انہیں بڑا ہونے کا موقع دیے بغیر فوراً نمٹائیں۔

ساتھ ہی یہ بھی خیال رکھیں کہ کھیت میں پانی زیادہ دیر کھڑا نہ رہے، یہ فصل کے لیے اچھا نہیں ہے، اور  نہ ہی اس سے جڑی بوٹیوں کا مسئلہ کم ہوتا ہے۔ ستمبر کاشت کماد کے پہلے 30 دن میں آبپاشی، اگاؤ اور جڑی بوٹیوں سے متعلق مکمل تفصیل کے لیے ہماری پچھلی رہنمائی ستمبر کاشت کماد کی ابتدائی 30 دن کی دیکھ بھال بھی ضرور دیکھیں۔

جڑی بوٹی مار دوا کب استعمال کروں؟

ہر کھیت میں سپرے کرنا ضروری نہیں ہوتا یے۔ اگر جڑی بوٹیاں کم ہوں تو گوڈی یا ہاتھ سے نکالنا ہی کافی رہتا ہے۔ لیکن اگر حملہ زیادہ ہو یا ایسی جڑی بوٹی ہو جو عام گوڈی سے قابو میں نہ آئے، تو مناسب دوا کا استعمال سوچا جا سکتا ہے۔

سب سے اہم بات یہ ہے کہ پہلے جڑی بوٹی کی صحیح پہچان کریں۔ ہر جڑی بوٹی کے لیے دوا اور طریقہ الگ ہوتا ہے۔ دوا استعمال کرتے وقت میں ہمیشہ یہ باتیں مدنظر رکھتا ہوں۔

  • پہلے جڑی بوٹی کی شناخت کریں۔
  • کماد کی عمر اور فصل کی حالت دیکھیں۔
  • دوا کا لیبل ضرور پڑھیں۔
  • تجویز شدہ مقدار سے زیادہ استعمال نہ کریں۔
  • ہوا اور موسم کو مدنظر رکھیں۔
  • سپرے کرتے وقت کماد کے پودوں کو نقصان سے بچائیں۔
  • کسی دوسرے کسان کی دوا یا مقدار اپنے کھیت میں بغیر سوچے استعمال نہ کریں۔
اگر الجھن ہو تو مقامی زرعی ماہر یا محکمہ زراعت سے مشورہ لینا ہمیشہ بہتر رہتا ہے۔

میرا آسان جڑی بوٹی کنٹرول ترتیب

سالوں کے تجربے کے بعد میں نے یہ سادہ سا طریقہ اپنا لیا ہے:

  1. زمین کی اچھی تیاری
  2. کاشت کے بعد کھیت کا معائنہ 
  3. چھوٹی جڑی بوٹیوں کی دستی تلفی یا گوڈی
  4. آبپاشی کے بعد دوبارہ معائنہ
  5. زیادہ حملے میں مناسب دوا
  6. مسلسل نگرانی

یہ کوئی مشکل سائنس نہیں، بس باقاعدگی کا کام ہے۔

جڑی بوٹیوں پر توجہ دینے کے ساتھ ساتھ ابتدائی کھاد کا صحیح استعمال بھی اتنا ہی ضروری ہے، کیونکہ جڑی بوٹیاں اسی خوراک پر بھی نظر رکھتی ہیں جو ہم کماد کی فصل کو دیتے ہیں۔ اس بارے میں ہماری یہ رہنمائیاں بھی ضرور پڑھیں کماد میں فاسفورس (DAP) کی اہمیت، فوائد، مقدار اور استعمال کا صحیح وقت،

 اس کے علاؤہ ہمارا مضمون کماد میں پوٹاش کی اہمیت، فوائد، استعمال اور صحیح وقت اور کماد کی کھادوں کا مکمل شیڈول کیا ہونا چاہیے۔ مکمل رہنمائی کےلیے ہماری تحریر کماد میں کھادوں کا مکمل شیڈول کیا ہونا چاہے پڑھیں۔

ستمبر کاشت کماد میں جڑی بوٹیوں پر خاص توجہ کیوں؟

ستمبر میں لگایا گیا کماد شروع میں چھوٹا ہوتا ہے اور قطاروں کے درمیان کافی جگہ خالی رہتی ہے، اس لیے اس وقت میں جڑی بوٹیاں معمول سے تیز بڑھ سکتی ہیں۔ میں پہلے چند ہفتوں میں ہفتے میں کم از کم ایک بار کھیت کا چکر ضرور لگاتا ہوں اور یہ چیزیں دیکھتا ہوں۔

  • اگاؤ کیسا ہو رہا ہے؟
  • زمین میں نمی مناسب ہے یا نہیں؟
  • جڑی بوٹیاں کہاں اور کتنی نکل رہی ہیں؟
  • کیا اب گوڈی کا وقت آ گیا ہے؟

جتنی جلدی جڑی بوٹی پر قابو پایا جائے، آگے چل کر اتنی ہی کم محنت لگتی ہے۔

وہ غلطیاں جو میں نے خود دیکھی ہیں (اور جن سے بچنا چاہیے)

1۔ بہت دیر سے گوڈی کرنا

بہت سے کسان جڑی بوٹی کے بڑا ہونے کا انتظار کرتے ہیں۔ تب تک وہ زمین میں اچھی طرح جم چکی ہوتی ہے اور نکالنا مشکل ہو جاتا ہے۔ جڑی بوٹی مار ادویات کا اثر بھی کم ہوتا ہے۔

2۔ پہچانے بغیر دوا ڈال دینا

صرف یہ دیکھ کر کہ کھیت میں گھاس ہے، کوئی بھی دوا اٹھا کر سپرے کر دینا درست نہیں ہے۔ سب سے پہلے جڑی بوٹی پہچانیں اور بعد میں زرعی ادویات کا استعمال کریں۔

3۔ ضرورت سے زیادہ دوا استعمال کرنا

زیادہ دوا کا مطلب زیادہ فائدہ نہیں ہے۔ زرعی ادویات کی غلط مقدار الٹا کماد کے پودے کو نقصان دے سکتی ہے۔

4۔ صرف ایک بار کنٹرول کر کے مطمئن ہو جانا

ایک گوڈی یا ایک سپرے کے بعد بھی نئی جڑی بوٹیاں نکل سکتی ہیں۔ اس لیے  نگرانی جاری رکھیں، تاکہ نئی جڑی بوٹیوں کو جلد نکالا جا سکے 

5۔ فصل کی حالت نظر انداز کرنا

کماد کی عمر، موسم اور زمین کی نمی کو دیکھے بغیر فیصلہ کرنا اکثر نقصان کا باعث بنتا ہے۔

نتیجہ

میرے اپنے تجربے میں، کماد کی اچھی فصل اور کمزور فصل کے درمیان فرق اکثر یہی ہوتا ہے کہ جڑی بوٹیوں پر کتنی جلدی توجہ دی گئی ہے۔ اچھی زمین کی تیاری، بروقت گوڈی، ضرورت پڑنے پر ہاتھ سے تلفی اور صرف ضرورت کی صورت میں دوا کا استعمال ۔ یہی چار چیزیں مل کر جڑی بوٹیوں کا مسئلہ کافی حد تک قابو میں رکھتی ہیں۔

نوٹ:   پہلے پہچانیں کہ جڑی بوٹی کون سی ہے، پھر فیصلہ کریں۔ ہر کھیت اور ہر جڑی بوٹی کے لیے ایک ہی نسخہ کام نہیں کرتا۔

اکثر پوچھے جانے والے سوالات

کماد میں جڑی بوٹیوں کا کنٹرول کب شروع کرنا چاہیے؟

جڑی بوٹی نظر آتے ہی کھیت کی حالت کے مطابق کنٹرول شروع کر دیں۔ بڑی ہونے کا انتظار نہ کریں۔

کیا کماد میں جڑی بوٹی مار دوا ضروری ہے؟

ہر بار جڑی بوٹی مار ادویات ضروری نہیں ہے۔ اگر جڑی بوٹیاں کم ہوں تو گوڈی یا ہاتھ سے تلفی کافی ہو سکتی ہے۔ زیادہ حملے میں ہی دوا کی ضرورت پڑتی ہے۔

کماد میں ڈیلا کیسے کنٹرول کروں؟

ڈیلا مشکل جڑی بوٹی ہے، اسے شروع سے ہی قابو میں رکھیں۔ زیادہ حملہ ہو تو مقامی زرعی ماہر سے مشورہ کر کے مناسب طریقہ اپنائیں۔

کیا آبپاشی کے بعد جڑی بوٹیاں زیادہ نکلتی ہیں؟

جی ہاں، نمی بڑھنے سے نئی جڑی بوٹیاں تیزی سے نکل سکتی ہیں، اس لیے پانی کے بعد کھیت دوبارہ ضرور دیکھیں۔

کیا جڑی بوٹیاں کماد کی پیداوار کم کر سکتی ہیں؟

جی ہاں۔ زیادہ جڑی بوٹیاں پانی، خوراک اور روشنی کے لیے کماد سے مقابلہ کرتی ہیں، اس لیے بروقت کنٹرول پیداوار بچانے میں مدد دیتا ہے۔

تحقیق اور ذرائع

یہ مضمون میرے اپنے کھیتی تجربے کے ساتھ ساتھ محکمہ زراعت پنجاب کے شوگرکین ریسرچ مواد اور محکمہ زراعت سندھ کی دستیاب رہنمائی کو مدنظر رکھتے ہوئے لکھا گیا ہے۔ چونکہ ہر زمین اور علاقے کے حالات مختلف ہوتے ہیں، اس لیے حتمی فیصلہ اپنے کھیت کے مشاہدے اور اپنے علاقے کے زرعی ماہر کے مشورے سے کریں۔


ایک تبصرہ شائع کریں for "کماد میں جڑی بوٹیوں کا کنٹرول | مؤثر طریقے اور بچاؤ"