اسلام علیکم کسان! جیسا کہ آپ جانتے ہیں کماد کی فصل سے اچھی پیداوار حاصل کرنے کےلیے کسان مختلف کھادوں جیسے یوریا، ڈی اے پی اور دوسری کھادوں پر زیادہ توجہ دیتے ہیں۔ کماد (گنا) کی پیداوار یوریا (نائٹروجن) اور ڈی اے پی (فاسفورس) کے زیادہ استعمال سے پیداور میں اضافہ ممکن نہیں ہوتا۔ کماد ایک ایسی فصل ہے جو زمین سے کافی مقدار میں غذائی اجزا استعمال کرتی رہتی ہے۔ اور ان سب میں پوٹاش ایک خاص اہمیت رکھتی ہے۔
پاکستان میں کئی علاقوں میں کسان کماد کی فصل کو مناسب مقدار میں پوٹاش نہیں دیتے جس کی وجہ سے کماد کی پیداوار میں کہیں نہ کہیں کمی رہ جاتی ہے۔ ہمارے کسان زمین میں ایک فصل کے فورا بعد دوسری فصل کی کاشت شروع کرتے ہیں، جس کی وجہ سے زمین میں غذائی اجزاء کی کمی ہوتی ہے اور ان میں پوٹاش اہم جز ہے۔
پاکستان ایگریکلچرل ریسرچ کونسل کے ایک پروگرام میں یہ بھی بات سامنے آئی ہے کہ پاکستان کے کسانوں کماد میں یوریا (نائٹروجن) کھادوں کی طرف زیادہ دھیان جھکا ہوا ہے جبکہ پوٹاش کا استعمال کماد کی فصل میں انتہائی دیکھنے کو ملتا ہے۔
یہ مضمون Pak Agri Info پر عام کسانوں کو آسان زبان اور تفصیل میں سمجھانے کےلیے لکھا گیا ہے۔ یہاں پر کسان دوست کماد میں پوٹاش کی اہمیت، فوائد اور کماد کی فصل میں پوٹاش کی کمی کو کیسے پہنچانا جا سکتا ہے۔ اس کے علاؤہ SOP اور MOP کھادوں میں کیا فرق ہے بیان کیا گیا ہے اور کماد کی فصل میں پوٹاش ڈالنے کا صحیح وقت اور مناسب مقدار کے بارے میں بتایا گیا ہے۔
کماد میں پوٹاش کیا ہے اور اس کی ضرورت کیوں ہوتی ہے؟
![]() |
| پوٹاش کی اہمیت، فوائد، استعمال اور صحیح وقت |
پوٹاش ایک (پوٹاشیم) کھاد ہے جس کو عام طور پر پوٹاشیم فراہم کرنے والی کھاد کہا جاتا ہے۔ کماد کے پودوں کےلیے پوٹاشیم میں تین بڑے غذائی اجزا رکھنے والی کھاد ہے، جس میں نائٹروجن، فاسفورس اور پوٹاش شامل ہے۔ اس کو کھاد کو عام طور پر NPK کہا جاتا ہے۔
کماد کی فصل میں پوٹاش پودوں میں پانی کے توازن، غذائی اجزا کے استعمال اور پودوں کی مجموعی بڑھوتری میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ وزارتِ نیشنل فوڈ سیکیورٹی اینڈ ریسرچ (PARC) جو پاکستان کا قومی زرعی اشارہ ہے، اس کے مطابق کماد (گنا) جو پوٹاش کی زیادہ ضرورت رکھنے والی فصلوں میں سمجھی جاتی ہے۔ مناسب مقدار میں پوٹاش پودے کو پانی کی کمی جیسے حالات برداشت کرنے میں مدد دے سکتی ہے۔
کسان دوستو! یہاں پر ایک بات سمجھنا ضروری ہے کہ پوٹاش کا مطلب یہ نہیں ہے کہ آپ کماد میں جتنی مقدار ڈالیں گے اتنی ہی زیادہ پیداوار حاصل ہوگی۔ ہوسکتا ہے آپ کی زمین میں پہلے سے پوٹاش کافی مقدار میں موجود ہو اور آپ اضافی کھاد جو آپ استعمال کر رہے ہیں اس کا فائدہ محدود ہو سکتا ہے۔ اس لیے آپ کو چاہیے کہ فصل سے پہلے یا بعد میں مٹی کا تجزیہ کرنا لازمی ہے تاکہ اضافہ خرچ سے بچ سکیں۔
کماد میں پوٹاش کی اہمیت کیا ہے؟
کماد (گنا) کی فصل میں پوٹاش کی اہمیت صرف ایک فائدے کےلیے محدود نہیں ہے، بلکہ یہ فصل کی مختلف ضروریات کو پورا کرنے کےلیے بہت اہم کردار ادا کرتی ہے۔
کسان دوستو کماد سے اچھی پیداوار حاصل کرنے کےلیے یوریا(نائٹروجن)، ڈی اے پی(فاسفورس) اور پوٹاش (پوٹاشیم) دینے سے فصل کی پیداوار میں اضافہ ممکن ہے۔
پاکستان میں زراعت کے ماہرین کماد کی فصل میں متوازن کھاد اور پوٹاش کو نظر انداز نہ کرنے پر اتفاق کرتے ہیں۔
1۔ کماد (گنا) کی مضبوط بڑھوتری میں مدد
پاکستان میں کماد کی فصل کو مناسب پوٹاش (پوٹاشیم) ملنے سے پودوں کی مجموعی نشونما میں بہتری دیکھی گئ ہے۔ پاکستان میں زرعی اداروں کی تحقیق سے پوٹاش کے استعمال سے ابتدائی (Stalk Population) اور (Mill able Canes) میں بہتری دیکھنے کو ملی ہے۔
کسان بھائیو گنے میں پوٹاش ڈالنے سے لازماً نہیں کہ کماد کی فصل پیداوار میں اضافہ کرے۔ پیداوار میں اضافے مختلف عناصر پر منحصر ہے، جس میں فصل کی قسم، زمین، پانی، یوریا (نائٹروجن) ڈی اے پی(فاسفورس) اور دیگر غذائی اجزاء بھی اہمیت رکھتے ہیں۔
2۔ کماد کے ڈنٹھل کو مضبوط بنانے میں مدد
پاکستان میں وہ علاقے جہاں پانی کی کمی یا موسم کی سختی کا سامنا رہتا ہے۔ وہاں کماد میں مضبوط ڈنٹھل خاص اہمیت رکھتا ہے۔ جنوبی پنجاب میں ہونے والی پاکستانی زرعی تحقیقاتی ادارے کی رپورٹ کے مطابق پوٹاشیم (پوٹاش) کی کمی گنا کو ڈنٹھل کی مضبوطی اور شدید سخت موسمی حالات کے ساتھ جوڑا گیا ہے۔ جبکہ پوٹاش کے استعمال سے کماد کی فصل میں پیداوار بڑھی ہے اور اس میں بہتری دیکھی گئی ہے۔
3۔ کماد کی پیداوار بہتر کرنے میں مدد
پاکستان بھر میں کیے گئے وفاقی اداروں میں زرعی فیلڈ تجربات میں پوٹاش کے بہتر استعمال سے کماد (گنا) کی پیداوار میں نمایاں فرق دیکھا گیا ہے۔ پنجاب کے ضلع مظفر گڑھ میں دو سالہ زرعی تحقیق کے دوران مختلف پوٹاش کی سطحوں کا موازنہ کیا گیا ہے۔
175 کلوگرام K²O فی ہیکڑ (2.5 ایکڑ) والے علاج میں زیادہ من وزن (Can Yield) ریکارڈ ہوئی ہے۔ جبکہ اسی کے مقابلہ میں K²O (پوٹاشیم آکسائیڈ کا فارمولہ) فی ہیکڑ (2.5 ایکڑ) پر معیار سے متعلق کچھ بہتر نتائج بھی دیکھے گئے ہیں۔
نوٹ: کسان بھائیو یہ نتائج ایک مخصوص تحقیقی تجربے کی بنیاد پر ہیں، اس لیے ان کو ہر کھیت کےلیے لازمی مقدار نہیں سمجھنا چاہیے۔ کیوں کہ ہر علاقے میں مقدار کا تعین مختلف ہو سکتا ہے۔ یہ اس بات پر منحصر ہے کہ وہاں پر زمین، پانی اور موسمی حالات کیسے ہیں۔
پوٹاش کی کمی کو کماد میں صرف ایک علامت سے پہچانا نہیں جاتا، بلکہ دوسری غذائی کمی، بیماری یا پانی کے مسئلے سے بھی بعض علامات ملتی جلتی دیکھی جا سکتی ہیں۔
ممکنہ علامات شامل ہو سکتی ہیں:
- پودوں کی مجموعی بڑھوتری ہو جاتی ہے۔
- پتوں کے کناروں پر رنگ تبدیل اور جھلسنے جیسی علامات ظاہر ہوتی ہیں۔
- ڈنٹھل کی نشوونما میں کمی دیکھی جا سکتی ہے۔
- پودوں میں پانی کی برداشت کرنے کی صلاحیت کم ہونا۔
- کماد کی مجموعی صحت اور جسمانی طاقت (vigor) میں کمی ہوتی ہے۔
نوٹ: کسان دوستو یہ کمی پوٹاش کی کمی کی وجہ سے ہو سکتی ہے، لیکن یہ 100 فیصد کہنا درست نہیں ہے کہ کماد میں یہ علامات صرف پوٹاش کی کمی کی وجہ سے ہوں، ہو سکتا ہےکہ آپ کے کماد میں کوئی اور بیماری موجود ہو۔
اس لیے اگر ممکن ہو تو مٹی کا تجزیہ کروائیں اور اپنی فصل میں دوسری علامات کو بھی دیکھیں، تاکہ پوٹاش پر سرمایہ لگانے سے پہلے آپ کو فصل کو کسی اور بیماری کا سامنا ہو، تو اس کو دور کیا جا سکے۔
کن زمینوں میں پوٹاش پر خاص توجہ دینی چاہیے؟
ہر کھیت میں پوٹاش کی ضرورت ایک جیسی نہیں ہوتی یہ اس بات پر منحصر ہے کہ مٹی کی ساخت، زمین میں پہلے سے موجود پوٹاشیم، فصل کی پیداوار کا ہدف، آبپاشی اور سابقہ کھادوں کا استعمال سب اس بات پر اثر ڈالتے ہیں۔
ریتلی یا زیادہ نکاسی والی زمین میں کھاد کے غذائی اجزاء کے ضائع ہونے کا مسئلہ زیادہ رہتا ہے۔ پنجاب بھر کے زرعی معلومات میں بھی یہ بتایا گیا ہے۔
جہاں پر ریتلی زمینوں میں پوٹاش (پوٹاشیم) کے مٹی میں حل پذیر (leaching losses) زیادہ سکتے ہیں۔ اس لیے کھادوں کے وقت اور placement پر توجہ دینا ضروری ہے۔
کماد کی اچھی بڑھوتری کے لیے صرف کھاد کا استعمال کافی نہیں بلکہ فصل کو ضرورت کے مطابق پانی دینا بھی ضروری ہے۔ کماد میں آبپاشی کا صحیح وقت، پانی کی مقدار اور طریقہ جاننے کے لیے ہماری مکمل گائیڈ بھی پڑھیں۔
کماد میں پوٹاش کی فی ایکڑ مقدار کتنی ہونی چاہیے؟
زمین میں پوٹاش (پوٹاشیم) کی مقدار زمین کے ٹیسٹ کے بغیر ہر کھیت کےلیے ایک جیسی مقرر نہیں کی جا سکتی۔ پاکستان میں زرعی سررکاری ذرائع مختلف علاقوں اور زمین کی زرخیزی کے مطابق مختلف سفارشات کرتے ہیں۔
مثال کے طور پر سندھ حکومت کی زرعی ویب سائٹ پر کماد کےلیے پنجاب کےلیے K²O کی عمومی سفارش (50 - 60) کلوگرام فی ایکڑ، اور پنجاب کے دوسرے مختلف علاقوں کےلیے دوسری حدود بھی بتائی گئی ہیں۔
اس میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ P اور K کا بڑا حصہ کاشت کے وقت دینے کی سفارش کی جاتی ہے۔ دوسری جانب پاکستان میں ہونے والی تحقیقی مطالعہ (Studies) میں 100، 150 اور 175 کے مختلف K²O rates بھی تجرباتی طور پر آزمائے گئے ہیں۔
کماد کی اچھی فصل کے لیے صرف کھاد کا درست استعمال ہی کافی نہیں بلکہ کاشت سے پہلے زمین کی مناسب تیاری اور صحیح وقت پر بیج لگانا بھی بہت اہم ہے۔ اگر آپ ستمبر میں کماد لگانے کا ارادہ رکھتے ہیں تو ستمبر میں کماد کی کاشت کا مکمل طریقہ، زمین کی تیاری اور بیج کے انتخاب کے بارے میں ہماری تفصیلی رہنمائی بھی پڑھ سکتے ہیں۔
اس فرق میں بنیادی وجہ یہی رہی ہے کہ تحقیقی Rates(ریٹس) اور ہر کسان کے کھیت کی عمومی سفارش ایک چیز نہیں کرتی ہے۔
نوٹ: ہر کسان اپنی زمین کےلیے بہتر مقدار کرنے کا طریقہ زمین کا تجزیہ، مقامی زرعی ماہرین کی سفارشات کے مطابق اور فصل کی سابقہ کارکردگی کو مدنظر رکھ کر کرے۔
ایس او پی (SOP) اور اہم او پی (MOP) میں کیا فرق ہے؟
پاکستان میں جس طرح ڈی اے پی (DAP) اور یوریا (Urea) استعمال ہوتی ہیں، اسی طرح سلفیٹ آف پوٹاش(SOP) اور میوریٹ آف پوٹاش (Muriate of Potash) بھی عام کھادوں کی بنیاد پر استعمال ہوتی ہیں۔
سلفیٹ آف پوٹاش (SOP) کیا ہے؟
پوٹاشیم سلفیٹ( سلفیٹ آف پوٹاش) اور اس کھا دو عام زبان میں ایس او پی (SOP) کہا جاتا ہے۔ پاکستان میں پنجاب بھر کے زرعی تحقیقات میں پوٹاش سلفیٹ (SOP) کو 50 فیصد K²O گریڈ کے طور پیش کیا گیا ہے۔
پوٹاشیم سلفیٹ (SOP) کا خاص فائدہ یہ بھی ہے کہ اس کے ذریعے سلفر حاصل ہوتا ہے جس سے کماد والی زمین میں سلفر کی کمی دور ہو جاتی ہے، اس سے کسانوں کو الگ سے سلفر دینے کی ضرورت نہیں ہوتی ہے۔
میوریٹ آف پوٹاش (MOP) کیا ہے؟
عام طور پر میوریٹ آف پوٹاش (MOP) کو پوٹاشیم کلورائیڈ کہا جاتا ہے۔ اس کھاد کو سرکاری زرعی تحقیقاتی اداروں کی طرف سے MOP کو 60 فیصد K²O گریڈ کے طور پر پہچانا جاتا ہے۔
امونیم سلفیٹ(SOP) اور میوریٹ آف پوٹاش (MOP) کی خریداری کے وقت فیصد کو نہ دیکھیں، بلکہ زمین، فصل کی ضرورت، سلفر K²O کی ضرورت اور مقامی سفارش کو بھی مدنظر رکھنا ضروری ہے۔
سلفیٹ آف پوٹاش (SOP) اور میوریٹ آف پوٹاش (MOP) میں آسان فرق۔
1ـ سلفیٹ آف پوٹاش SOP
پوٹاشیم سلفیٹ (SOP) میں تقریباً 50٪ K²O گریڈ اور سلفر کے ساتھ بنیادی ذریعہ پوٹاش موجود ہے۔ اس لیے اس کھاد کا انتخاب زمین اور فصل کی ضرورت کے مطابق کریں۔
2۔ میوریٹ آف پوٹاش (MOP)
میوریٹ آف پوٹاش(MOP) میں تقریبا 60٪ K²O گریڈ اور اس میں سلفر موجود نہیں ہے، اس کھاد کا بنیادی مقصد پوٹاش فراہم کرنا ہے۔ اس کا استعمال بھی زمین اور فصل کی ضرورت کے تحت کرنا چاہیے۔
سلفیٹ آف پوٹاش میں K²O 50% ہوتو حساب کیسے کریں؟
کسان بھائیو فرض کریں آپ کو کسی سفارش کے مطابق 50 کلوگرام K²O فی ایکڑ کے حساب سے دینا ہے تو درج ذیل فارمولہ کے تحت حساب لگا سکتے ہیں۔
فارمولا:
سلفیٹ آف پوٹاش (SOP) 100 کلو گرام = 50 ÷ 0.50
یعنی 50 کلو گرام K²O فراہم کرنے کےلیے تقریبا 100 کلوگرام ایسی SOP کھاد درکار ہو گی جس کا گریڈ 50٪ K²O ہونا چاہیے۔
یہ بات دھیان میں رکھیں اگر کھاد کی بوری پر K²O کا فیصد مختلف ہو گا تو حساب کا فارمولا بھی بدل جائے گا۔
کھاد کی بوری خریدتے وقت "پوٹاش" کا نام دیکھنے کی بجائے K²O فیصد دیکھنا ضروری ہے۔
کماد میں پوٹاش ایک ساتھ ڈالیں یا قسطوں میں؟
پاکستان کی زرعی تحقیقات میں یہ بات واضح کی گئی ہے کہ پوٹاش کو کماد کی فصل میں کاشت کے وقت دینا اہمیت رکھتا ہے۔ ایسی زمینیں جہاں (leaching) کا مسئلہ ہو وہاں پر spilt application اقساط میں دینا مناسب سمجھا جاتا ہے۔
مثال کے طور پر ریتیلی زمینیں جہاں پر پانی کے ساتھ غذائی اجزا کے نیچے جانے کا خدشہ زیادہ رہتا ہو تو، پوری مقدار ایک ہی وقت میں دینے کی بجائے مقامی سفارش کے مطابق قسطوں میں دینا زیادہ مناسب سمجھا جاتا ہے۔
یہاں پر ایک بات سمجھنی بہت ضروری ہے کہ قسطیں صرف اس لیے نہ بنائیں کہ زیادہ کھاد ڈالنے سے زیادہ فایدہ ہوگا۔ بلکہ مقصد یہ کہ فصل کی ضرورت کے مطابق غذائی عنصر کی دستیابی ہے۔
کماد میں پوٹاش (پوٹاشیم) استعمال کرنے کا آسان طریقہ
یہاں ہر کسان بھائیوں کو سمجھانے کےلیے کھیت میں پوٹاش استعمال کرنے کے بارے بنیادی ترتیب سمجھائی گئیں ہیں۔
1۔ پہلا قدم مٹی کی جانچ
سب سے پہلے اپنے کھیت میں یہ معلوم کریں کہ زمین میں پوٹاش (پوٹاشیم) اور دوسرے اجزا کی کیا صورتحال ہے۔
2۔ دوسرا قدم فصل اور زمین کو دیکھیں
یہ بات ذہن میں رکھنی چاہیے کہ پہلے زمین کی قسم، پچھلی فصل کا پلان دیکھنا ضروری ہے، آبپاشی اور کماد(گنا) کی قسم کو دیکھنا بے حد ضروری ہے۔
3۔ تیسرا قدم کھاد کا گریڈ دیکھیں
سلفیٹ آف پوٹاش (SOP) اور امپورٹ آف پوٹاش (MOP) کے K²O کے مطابق کھاد کا گریڈ دیکھ کر حساب کرنا چاہیے۔
4۔ چوتھا قدم مناسب وقت پر استعمال
کماد کی فصل کاشت کے وقت ایک اہم طریقہ سمجھا جاتا ہے۔ جبکہ کچھ زمینوں میں spilt application زیادہ مناسب کو سکتی ہے۔
5۔ پانچواں قدم کھاد کو مناسب جگہ دیں
کھاد کو پودوں کی جڑوں کے فعال حصے کے قریب دینا مناسب سمجھا جاتا ہے، جو غذائی اجزا کے بہتر استعمال میں مدد دیتا ہے۔
6۔ چھٹا قدم آبپاشی کا خیال رکھیں
کھاد ڈالنے فورآ بعد فصل کو پانی لگانا بے حد ضروری ہے۔ لیکن غیر ضروری یا بہت زیادہ پانی لگانے سے فصل کو نقصان یا بیماریاں لگنے کا خدشہ بڑھ جاتا ہے۔
کیا پوٹاش کو یوریا (نائٹروجن) اور ڈی اے پی (فاسفورس) کے ساتھ استعمال کیا جا سکتا ہے؟
یہاں پر یہ بات واضح ہے کہ کماد کی فصل ایک سالانہ فصل ہے جس کو مکمل غذائی اجزاء کی ضرورت ہوتی ہے۔ اس لیے اس کو ایک کھاد سے پورا نہیں کیا جا سکتا ہے۔ یوریا نائٹروجن فراہم کرتی ہے، اور ڈی اہے پی(DAP) بنیادی طور پر فاسفورس اور کچھ حصہ نائٹروجن فراہم کرتا ہے۔ اسی طرح پوٹاش کھاد پوٹاشیم فراہم کرتی ہے۔
متعلقہ مضامین:
کماد کی متوازن غذائیت کے لیے صرف یوریا، DAP اور پوٹاش ہی کافی نہیں، بلکہ بعض زمینوں میں زنک اور بوران جیسے مائیکرو نیوٹرینٹس کی ضرورت بھی ہو سکتی ہے۔ اگر آپ کماد میں بوران کی اہمیت، کمی کی علامات اور استعمال کے بارے میں جاننا چاہتے ہیں تو کماد میں بوران کی اہمیت، فوائد، کمی کی علامات اور استعمال کا طریقہ بھی پڑھیں۔
اگر آپ کماد میں امونیم سلفیٹ، ہیومک ایسڈ اور سلفر کے استعمال کے بارے میں جاننا چاہتے ہیں تو کماد میں امونیم سلفیٹ، ہومک ایسڈ اور سلفر کے استعمال کے حیرت انگیز فوائد کا مکمل طریقہ بھی ضرور دیکھیں۔
اسی طرح کماد میں زنک کی اہمیت، فوائد، استعمال اور صحیح وقت والا مضمون آپ کے لیے مفید ہوگا۔
اگر آپ نے ستمبر میں کماد کاشت کی ہے تو پہلے 30 دن کی مکمل دیکھ بھال کے لیے ستمبر کاشت کماد کی ابتدائی 30 دن کی دیکھ بھال بھی ضرور پڑھیں۔
پوٹاش استعمال کرتے وقت 7 اہم احتیاطی تدابیر
1۔ مٹی کا تجزیہ کیے بغیر زیادہ مقدار استعمال نہیں کرنی چاہیے۔
2. سلفیٹ آف پوٹاش (SOP) اور MOP کے گریڈ K²O میں فرق دیکھیں
3۔ ہر کھیت کےلیے ایک مقدار کو لازمی فارمولا نہ بنائیں۔
4۔ ریتیلی یا زیادہ پانی جذب کرنے والی زمین میں کھاد کے طریقہ پر زیادہ توجہ کی ضرورت ہوتی ہے۔
5۔ کماد کے پتوں کو دیکھ کر جلد پوٹاش کی کمی کا حتمی فیصلہ نہ کریں۔
6۔ یوریا، ڈی اے اپنی (DAP) اور پوٹاش کو الگ الگ نہیں بلکہ مکمل غذائی پروگرام کے طور پر دیکھیں
7۔ کھاد کے ساتھ کھیت میں آبپاشی اور نمی کا انتظام بھی درست رکھیں۔
کیا کماد میں پوٹاش ڈالنے سے پیداوار لازمی بڑھ جاتی ہے؟
یہ کہنا درست نہیں ہے کہ پوٹاش (پوٹاشیم کھاد) ڈالنے سے کماد کی فصل میں پیداوار لازماً ایک خاص مقدار بڑھ جائے گی۔ پوٹاشیم کھاد کا فائدہ اس وقت دیکھنے کو ملتا ہے جب زمین میں غذائی عنصر کی کمی ہو یا فصل کو اس کی ضرورت ہو۔
حالیہ پاکستان میں ہونے والی تحقیق میں پوٹاش کے استعمال سے کماد کی پیداوار اور بعض کوالٹی پیرامیٹرز میں بہتری دیکھی جا سکتی ہے۔ لیکن مختلف تجربات میں آپٹیمم ریٹ ایک جیسا نہیں تھا۔
کماد میں پوٹاش کے فوائد
فی ایکڑ پیداوار میں اضافہ دینے میں مدد مل سکتی ہے۔ پوٹاش بعض حالات میں فصل کے معیار کو بہتر بنانے اور اس پر مثبت اثرات مرتب کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔ متوازن NPK کھادوں کے ساتھ مل کر یہ فصل کےلیے اہم غذائی جزو بنتی ہے۔
کماد کی فصل کو یہ تمام فوائد اس وقت صحیح فائدہ پہنچاتے ہیں جب زمین، فصل اور غذائی حالات ایک دوسرے کے ساتھ جڑ جائیں۔
اکثر پوچھے جانے والے سوالات
کماد میں پوٹاش کب ڈالیں؟
عام طور پر پوٹاش کو کماد کی کاشت کے وقت استعمال کیا جاتا ہے، جبکہ غذا اجزاء کا کیمیکلز کا گھل کر پانی کے ساتھ نیچے زمین میں چلے جانے (leaching) والی زمینوں میں حالات کے مطابق اقساط میں کھاد دینے (Split application) پر غور کیا جاسکتا ہے۔
کماد میں پوٹاش کی فی ایکڑ مقدار کتنی ہے؟
مقدار کا تعین زمین کی زرخیزی، مٹی کے تجزیے اور مقامی سفارش کے مطابق بدل سکتی ہے۔ مختلف پاکستانی زرعی ذرائع میں مختلف ریٹس (rates) موجود ہیں، اس لیے ہر کھیت کے لیے ایک ہی مقدار مقرر کرنا درست نہیں ہو سکتا ہے۔
SOP میں کتنی پوٹاش ہوتی ہے؟
عام سلفیٹ آف پوٹاش (SOP) کو تقریباً 50 فیصد K₂O grade کے طور پر درج کیا جاتا ہے۔ کھاد خریدتے وقت بوری پر درج گریڈ (grade) ضرور چیک کریں۔
MOP میں کتنی پوٹاش ہوتی ہے؟
عام طور پر میوریٹ آف پوٹاش (MOP) کو تقریباً 60 فیصد گریڈ(K₂O (grade کے طور پر شامل کیا جاتا ہے۔
SOP اور MOP میں سے کون سی بہتر ہے؟
یہ زمین اور فصل کی ضرورت پر منحصر ہے۔ اگر سلفر کی ضرورت بھی ہو تو سلفیٹ آف پوٹاش (SOP) ایک مناسب انتخاب ہوسکتی ہے، جبکہ بعض حالات میں میوریٹ آف پوٹاش (MOP) بھی مؤثر پوٹاش ذریعہ ہے۔ مقامی سفارش اور زمین کے ٹیسٹ کو ترجیح دینی چاہیے۔
کیا پوٹاش یوریا کا متبادل ہے؟
یوریا نائٹروجن فراہم کرتی ہے جبکہ پوٹاش کھاد پوٹاشیم (Potash) فراہم کرتی ہے۔ دونوں کا فصل میں کردار مختلف ہے۔ اس لیے پوٹاش یوریا کا متبادل نہیں ہے۔
نتیجہ
کماد کی اچھی فصل کے لیے صرف زیادہ یوریا ڈال دینا کافی نہیں ہوتا ہے۔ فصل کو نائٹروجن، فاسفورس اور پوٹاشیم سمیت تمام ضروری غذائی اجزا مناسب توازن میں درکار ہوتے رہتے ہیں۔
پوٹاش خاص طور پر کماد جیسی زیادہ پیداوار دینے والی فصل میں کافی اہمیت رکھتی ہے۔ پاکستان میں ہونے والی زرعی تحقیق اور سرکاری زرعی تجربات سے بھی یہ بات سامنے آتی ہے کہ کماد میں پوٹاش کو مکمل طور پر نظر انداز کرنا مناسب نہیں ہے۔ لیکن اس کی مقدار ہر کھیت کے لیے ایک جیسی نہیں رکھی جاسکتی۔
اگر آپ واقعی اپنی فصل سے بہتر پیداوار لینا چاہتے ہیں تو صرف کھاد کی مقدار بڑھانے کے بجائے پہلے زمین کی حالت سمجھیں پھر ممکن ہو تو مٹی کا تجزیہ کروائیں اور اس کے بعد زمین اور فصل کی ضرورت کے مطابق کھاد کا شیڈول پروگرام بنائیں۔
نوٹ:
کسان دوستو! فصل کو صحیح کھاد، صحیح مقدار اور صحیح وقت میں تینوں چیزیں ایک ساتھ ہوں تو ہی کھاد کا فائدہ بہتر طریقے سے حاصل کیا جاسکتا ہے۔



ایک تبصرہ شائع کریں for "کماد میں پوٹاش کی اہمیت، فوائد، استعمال اور صحیح وقت "