Skip to content Skip to sidebar Skip to footer

ستمبر میں کماد کی کاشت کیسے کریں؟ مکمل طریقہ، وقت، زمین کی تیاری اور بیج

ستمبر میں کماد کی کاشت کا طریقہ
کماد کی اچھی فصل کے لیے زمین کو کاشت سے پہلے اچھی طرح تیار کرنا ضروری ہے۔
کسان دوستو! ستمبر کا مہینہ شروع ہوتے ہی بہت سے کسان کماد کی نئی فصل کی تیاری شروع کر دیتے ہیں۔ خاص طور پر پنجاب اور سندھ کے کئی علاقوں میں ستمبر کاشتہ کماد ایک اہم فصل سمجھی جاتی ہے۔

کماد کی اچھی فصل صرف زیادہ کھاد ڈالنے سے نہیں بنتی۔ اگر زمین اچھی طرح تیار ہو، صحت مند بیج استعمال کیا جائے، قطاروں کا فاصلہ مناسب ہو اور شروع کے دنوں میں پانی اور جڑی بوٹیوں کا خیال رکھا جائے تو فصل کا آغاز ہی مضبوط ہوتا ہے۔

سرکاری زرعی رہنمائی میں بھی ستمبر کاشت کو کماد کے اہم کاشت اوقات میں شامل کیا گیا ہے۔ پنجاب کے محکمہ زراعت کی معلومات میں کئی منظور شدہ اقسام کے لیے ستمبر اور فروری دونوں کاشت کے اوقات درج ہیں، جبکہ سندھ محکمہ زراعت کے مطابق خزاں کی کاشت پنجاب اور سندھ میں ستمبر کے پہلے ہفتے سے اکتوبر کے وسط تک کی جاتی ہے۔

اس مضمون کو Pak Agri Info پر نہایت سادہ الفاظ میں لکھا گیا ہے، کہ ستمبر میں کماد کی کاشت کیسے کریں، زمین کیسے تیار کریں، بیج کتنا رکھیں، قطاروں کا فاصلہ کیا ہو اور شروع میں کن باتوں کا خیال رکھنا ضروری ہے۔

ستمبر میں کماد کی کاشت کا صحیح وقت کون سا ہے؟

ستمبر کاشت کماد کے لیے صرف یہ دیکھنا کافی نہیں کہ کیلنڈر میں ستمبر شروع ہو گیا ہے۔ اصل بات یہ ہے کہ زمین تیار ہو، مناسب نمی موجود ہو اور کسان کاشت کا کام بروقت مکمل کر سکے۔

عام طور پر ستمبر کے شروع سے اکتوبر کے وسط تک خزاں کی کماد (گنا) کاشت کی جاتی ہے۔ تاہم علاقے، موسم، زمین اور دستیاب پانی کے مطابق وقت میں کچھ فرق ہو سکتا ہے۔ سندھ محکمہ زراعت بھی پنجاب اور سندھ کے لیے خزاں کی کاشت کا یہی عمومی عرصہ بیان کرتا ہے۔ 

عملی طور پر بہتر یہ ہے کہ:

  • زمین پہلے سے تیار رکھیں۔
  • صحت مند بیج پہلے ہی حاصل کر لیں۔
  • کھیت میں مناسب نمی موجود ہو۔
  • کاشت کو بلا وجہ اکتوبر کے آخر تک نہ لے جائیں۔
  • اپنے علاقے میں محکمہ زراعت یا مقامی زرعی ماہر کی سفارش کو بھی دیکھیں۔

نوٹ: یعنی ستمبر کاشت میں اصل فائدہ بروقت اور اچھی تیاری کے ساتھ کاشت مکمل کرنے میں ہے۔

ستمبر کاشت کماد کے لیے زمین کیسے تیار کریں؟

کماد کی کاشت کے لیے زمین کی تیاری
کماد کی اچھی فصل کے لیے زمین کو کاشت سے پہلے اچھی طرح تیار کرنا ضروری ہے۔
کماد ایک ایسی فصل ہے جو ایک ہی کھیت میں کافی عرصے تک رہتی ہے، اس لیے شروع میں زمین کی تیاری پر توجہ دینا بہت ضروری ہے۔

اگر زمین سخت ہو، نیچے سخت تہہ بنی ہوئی ہو یا کھیت میں پانی کھڑا رہتا ہو تو بعد میں فصل کی جڑوں اور بڑھوتری پر اثر پڑ سکتا ہے۔

زمین کی تیاری کا عملی طریقہ

سب سے پہلے کھیت کی پچھلی فصل کی باقیات اور جڑی بوٹیوں کو صاف کریں۔ اس کے بعد زمین کی ضرورت کے مطابق گہرا ہل چلائیں تاکہ سخت تہہ ٹوٹ سکے۔

ستمبر میں کماد کی کاشت سے پہلے کھیت کو جڑی بوٹیوں سے صاف رکھنا بھی بہت ضروری ہے۔ اگر شروع ہی سے جڑی بوٹیاں زیادہ ہوں تو نئی فصل کے ساتھ پانی اور غذائی اجزا کے لیے مقابلہ شروع ہو جاتا ہے۔ کماد میں جڑی بوٹیوں کے کنٹرول، اہم جڑی بوٹیوں اور مؤثر طریقوں کے بارے میں ہم نے الگ سے مکمل رہنمائی دی ہے۔

اس کے بعد ڈسک یا مناسب زرعی آلے سے زمین کو بھر بھرا کریں اور آخر میں زمین کو ہموار کریں۔

سرکاری رہنمائی میں بھی کماد کے لیے مناسب زمین کی تیاری اور گہری جوتائی کو اہم قرار دیا گیا ہے، کیونکہ کماد گہری جڑوں والی فصل ہے۔ 

نوٹ: اگر زمین میں پہلے سے پانی کھڑا ہونے کا مسئلہ ہے تو صرف زیادہ پانی دینے سے مسئلہ حل نہیں ہوگا۔ ایسی زمین میں نکاسی آب کا انتظام بھی دیکھنا چاہیے۔

کماد کی کاشت سے پہلے کھیت میں گوبر کی کھاد ڈالیں؟

اگر دستیاب ہو تو اچھی طرح گلی سڑی ہوئی گوبر کی کھاد زمین کی تیاری سے پہلے استعمال کی جا سکتی ہے۔

لیکن تازہ گوبر کھیت میں ڈال کر فوراً کاشت کرنا مناسب طریقہ نہیں سمجھا جاتا۔ اچھی طرح گلی سڑی ہوئی نامیاتی کھاد زمین میں شامل کرنا بہتر ہے۔

سندھ محکمہ زراعت کی کماد کی پیداوار سے متعلق رہنمائی میں بھی زمین کی تیاری سے پہلے اچھی طرح گلی سڑی ہوئی گوبر کی کھاد استعمال کرنے کا ذکر موجود ہے۔ 

ستمبر کاشتہ کماد کے لیے بیج کیسا ہونا چاہیے؟

ستمبر کاشتہ کماد کے لیے صحت مند بیج
صحت مند اور اچھی قسم کا بیج کماد کی فصل کے بہتر آغاز میں مدد دیتا ہے۔
کماد کی فصل کا آغاز ہی بیج سے ہوتا ہے، اس لیے بیج کے انتخاب میں جلد بازی نہیں کرنی چاہیے۔

ایسا بیج استعمال کریں جو:

  • صحت مند اور تندرست فصل سے لیا گیا ہو۔
  • بیماریوں سے متاثرہ نہ ہو۔
  • کیڑوں سے شدید نقصان زدہ نہ ہو۔
  • اچھی قسم یا منظور شدہ قسم کا ہو۔
  • تازہ اور اچھی حالت میں ہو۔
  • اس میں آنکھیں یا گانٹھیں صحت مند ہوں۔

صرف سستا بیج خرید لینا فائدے کی بات نہیں ہے۔ کماد میں اگر شروع ہی سے بیج کا معیار خراب ہو تو بعد میں کھاد اور پانی کا خرچ کرنے کے باوجود مطلوبہ پودوں کی تعداد حاصل کرنا مشکل ہو سکتا ہے۔

پاکستان میں کماد کی نئی اقسام اور صاف ستھرے پودے/ بیج کی تیاری پر تحقیق بھی جاری ہے۔ PARC کے نیشنل شوگر کراپس ٹراپیکل ہارٹیکلچر ریسرچ انسٹی ٹیوٹ کی خدمات میں منظور شدہ کماد کی اقسام کے خالص بیج کی تیاری اور کاشتکاروں کو تکنیکی مدد شامل ہے۔

ستمبر میں کماد کے لیے فی ایکڑ کتنا بیج چاہیے؟

بیج کی مقدار ہر قسم کے کماد کے لیے ایک جیسی نہیں ہوتی۔ موٹی اور پتلی اقسام کے حساب سے شرح بیج میں فرق ہو سکتا ہے۔

سندھ محکمہ زراعت کی رہنمائی میں تقریباً:

  1. پتلی اقسام کے لیے 80 سے 100 من فی ایکڑ
  2. موٹی اقسام کے لیے 100 سے 120 من فی ایکڑ

بیج کا ذکر کیا گیا ہے۔  یہ مقدار حتمی اصول نہیں سمجھنی چاہیے، کیونکہ قسم، بیج کا معیار، ٹکڑوں کی حالت، قطاروں کا فاصلہ اور کاشت کے طریقے سے ضرورت بدل سکتی ہے۔

نوٹ: اس لیے کسان بھائی صرف دوسرے کسان کی شرح دیکھ کر اپنے کھیت میں اتنا ہی بیج نہ ڈالیں۔

کماد کی قطاروں کا فاصلہ کتنا رکھیں؟

کماد میں قطاروں کا فاصلہ ایسا ہونا چاہیے کہ پودوں کو مناسب جگہ ملے اور بعد میں کھیت میں گوڈی، جڑی بوٹیوں کا کنٹرول، مٹی چڑھانا اور دوسری ضروری کارروائیاں آسانی سے کی جا سکیں۔

ستمبر کاشت کماد کی ابتدائی کاشت مکمل ہونے کے بعد اگر قطاروں کے درمیان مناسب جگہ موجود ہو تو بعض علاقوں میں کنولا یا رایا کو بین فصل کے طور پر بھی کاشت کیا جا سکتا ہے۔ لیکن اس کے لیے قسم، قطاروں کی ترتیب، زمین کی نمی اور کماد کی ابتدائی حالت کو دیکھنا ضروری ہے۔ ستمبر کاشت کماد میں کنولا اور سرسوں کی کاشت کا مکمل طریقہ ہم نے الگ مضمون میں آسان انداز میں بیان کیا ہے، جس میں مناسب وقت، ایک قطار کا طریقہ، پانی، چھٹائی اور ضروری احتیاطیں بھی شامل ہیں۔

سندھ محکمہ زراعت کی رہنمائی میں عام طور پر 90 سینٹی میٹر سے ایک میٹر تک قطاروں کا فاصلہ بتایا گیا ہے، جبکہ قسم کے مطابق فاصلہ اور شرح بیج میں تبدیلی ہو سکتی ہے۔ 

عملی طور پر قطاروں کا فاصلہ طے کرتے وقت کماد کی قسم، زمین، مشینری اور مقامی کاشت کے طریقے کو سامنے رکھنا بہتر ہے۔

کماد کا بیج زمین میں کتنی گہرائی پر رکھیں؟

بیج کو نہ بہت زیادہ گہرائی میں دبائیں اور نہ ہی بالکل سطح کے اوپر چھوڑیں۔ بیج رکھنے کے بعد اس پر مناسب مقدار میں مٹی ڈالیں تاکہ نمی برقرار رہے لیکن نئی کونپل کے نکلنے میں مشکل نہ ہو۔

سندھ محکمہ زراعت کی رہنمائی میں دو آنکھوں والے ڈبل سیٹس کو نالی میں مناسب ترتیب سے رکھنے اور تقریباً 2 سے 3 سینٹی میٹر مٹی سے ڈھانپنے کا طریقہ بیان کیا گیا ہے۔ 

یہاں ایک اہم بات یہ ہے کہ مختلف علاقوں میں کاشت کا طریقہ مختلف ہو سکتا ہے، اس لیے اپنے علاقے میں رائج اور محکمہ زراعت کی تجویز کردہ کاشت کا طریقہ ترجیح دیں۔

ستمبر میں کماد کاشت کرنے کا آسان طریقہ

اگر پورے عمل کو آسان الفاظ میں سمجھیں تو طریقہ کچھ اس طرح بنتا ہے:

  1.  کھیت صاف کریں پچھلی فصل کی باقیات اور جڑی بوٹیاں صاف کریں۔
  2. زمین کی مناسب جوتائی کریں، سخت زمین کو توڑیں اور زمین کو بھربھرا کریں۔
  3. کھیت ہموار کریں، پانی کے مناسب پھیلاؤ کے لیے زمین کی ہمواری ضروری ہے۔
  4. اچھی قسم کا بیج حاصل کریں، صحت مند اور بیماری سے پاک بیج استعمال کریں۔
  5. مناسب فاصلے پر نالیاں بنائیں، قطاروں کا فاصلہ قسم اور مقامی طریقے کے مطابق رکھیں۔
  6. بیج مناسب ترتیب سے رکھیں، بیج کی آنکھوں کو نقصان نہ پہنچائیں۔
  7. مٹی کی مناسب تہہ دیں، بیج کو بہت زیادہ گہرائی میں نہ دبائیں۔
  8. کاشت کے بعد پانی کا خیال رکھیں، زمین کی حالت اور موسم دیکھ کر آبپاشی کریں۔

ستمبر کے کماد میں پہلی آبپاشی کب کریں؟

کاشت کے بعد پانی دینے کا وقت زمین کی نمی، مٹی کی قسم، موسم اور کاشت کے طریقے پر منحصر ہے۔

ریتلی زمین جلد خشک ہوتی ہے، جبکہ بھاری زمین زیادہ دیر تک نمی برقرار رکھ سکتی ہے۔ اس لیے ہر کھیت کے لیے ایک ہی دن یا ایک ہی وقفہ مقرر کرنا درست نہیں ہے۔

پہلی آبپاشی کے وقت کا فیصلہ زمین کی نمی دیکھ کر ہی کرنا چاہیے۔ اس بارے میں مکمل تفصیل، ہلکی اور بھاری زمین کا فرق، اور پہلے 30 دن میں پانی کے استعمال کے اصول ہماری رہنمائی ستمبر کاشت کماد کو پہلا پانی کب دیں؟ مکمل آبپاشی گائیڈ میں دیکھیں۔

اگر زمین میں پہلے ہی مناسب نمی موجود ہو تو ضرورت سے زیادہ پانی دینے سے فائدے کے بجائے نقصان ہو سکتا ہے۔

ہم نے کماد کی آبپاشی پر مکمل مضمون بھی تیار کیا ہے، جس میں موسم کے مطابق پانی دینے اور عملی طریقے سے متعلق تفصیل موجود ہے۔ کماد میں آبپاشی کا مکمل طریقہ، پانی دینے کا صحیح وقت اور گرمیوں میں آبپاشی۔

ستمبر کے کماد میں شروع کی کھاد کیسے دیں؟

کاشت کے وقت کھاد کا فیصلہ صرف اندازے سے نہیں کرنا چاہیے۔ زمین کی زرخیزی، مٹی کے تجزیے اور فصل کی ضرورت کو دیکھنا زیادہ بہتر ہے۔

کماد میں DAP کی اہمیت والے مضمون میں ہم نے فاسفورس اور DAP کے استعمال کی تفصیل بیان کی ہے۔

اسی طرح کماد میں پوٹاش بھی اہم غذائی عنصر ہے۔ اگر کسان صرف یوریا پر توجہ دے اور فاسفورس اور پوٹاش کو نظر انداز کر دے تو غذائی پروگرام متوازن نہیں رہتا۔

کماد (گنا) میں کھادوں کے بارے میں متعلقہ مضامین پڑھیں:

ستمبر کاشت کماد میں کون سی قسم لگائیں؟

یہاں ایک بات بہت اہم ہے: ہر علاقے میں ایک ہی قسم بہترین نہیں ہوتی۔ قسم کا انتخاب علاقے، زمین، آب و ہوا، پانی، بیماریوں اور مقامی سفارش کے مطابق ہونا چاہیے۔

پنجاب کے محکمہ زراعت کی موجودہ معلومات میں مختلف کماد کی اقسام کے ساتھ ان کے علاقوں، خصوصیات اور ستمبر / فروری کی کاشت کے اوقات بھی درج ہیں۔ مثال کے طور پر کچھ اقسام کو پورے پنجاب جبکہ کچھ کو مخصوص علاقوں کے لیے موزوں بتایا گیا ہے۔ 

نوٹ:  اس لیے کسان کو صرف یہ دیکھ کر قسم نہیں لگانی چاہیے کہ کسی دوسرے علاقے میں اس کی پیداوار اچھی آئی ہے۔ اپنے علاقے کے لیے منظور شدہ اور مناسب قسم کو ترجیح دیں۔

ستمبر کا کماد اور ساتھ دوسری فصل لگانا

ستمبر میں لگائے جانے والے کماد میں بعض علاقوں میں کسان شروع کے عرصے میں دوسری فصلوں کے ساتھ کاشت کا طریقہ بھی اختیار کرتے ہیں۔

لیکن یہاں احتیاط ضروری ہے۔ ساتھ لگائی جانے والی فصل کماد کے ابتدائی پودوں سے پانی، غذائی اجزا اور روشنی کے لیے مقابلہ کر سکتی ہے۔ اس لیے اگر بین فصل لگانی ہو تو علاقے، زمین، پانی اور کماد کی قسم کے مطابق منصوبہ بنانا چاہیے۔

پاکستان میں ستمبر کاشت کماد کے ساتھ دالوں اور دوسری فصلوں کی بین کاشت پر بھی تحقیق اور عملی کام ہوا ہے، لیکن اسے ہر علاقے کے لیے یکساں سفارش نہیں سمجھنا چاہیے۔

ستمبر کے کماد میں کسان عام طور پر کون سی غلطیاں کرتے ہیں؟

کئی مرتبہ مسئلہ کھاد یا بیج کی کمی نہیں ہوتی بلکہ کاشت کے وقت کی غلطی ہوسکتی ہے۔

عام غلطیوں میں شامل ہیں:

  • زمین مکمل تیار کیے بغیر جلدی کاشت کرنا۔
  • کمزور یا بیماری زدہ بیج استعمال کرنا۔
  • ضرورت سے زیادہ بیج ڈال دینا۔
  • قطاروں کا فاصلہ بہت کم رکھنا۔
  • بیج کو بہت گہرا دبا دینا۔
  • پانی کھڑا رہنے والی زمین میں نکاسی کا انتظام نہ کرنا۔
  • صرف یوریا پر توجہ دینا۔
  • مٹی کا تجزیہ کیے بغیر ہر سال ایک ہی مقدار میں کھاد ڈالنا۔
  • جڑی بوٹیوں کو شروع میں نظر انداز کرنا۔
  • دوسرے علاقے کے کسان کی مکمل کاشتکاری اپنے کھیت میں جوں کی توں نقل کرنا۔

ستمبر کاشت کماد کی کامیاب فصل کے لیے 8 اہم باتیں

  1. کاشت بروقت مکمل کریں۔
  2. زمین کو اچھی طرح تیار کریں۔
  3. صحت مند اور مناسب قسم کا بیج لیں۔
  4. شرح بیج زمین اور قسم کے مطابق رکھیں۔
  5. قطاروں کا مناسب فاصلہ رکھیں۔
  6. پانی کھڑا ہونے سے بچائیں۔
  7. شروع ہی سے جڑی بوٹیوں پر نظر رکھیں۔
  8. کھاد کا پروگرام مٹی اور فصل کی ضرورت کے مطابق بنائیں۔

ستمبر میں کماد کی کاشت کے بعد اگلا کام کیا کریں؟

کاشت مکمل ہونے کے بعد کسان کا کام ختم نہیں ہوتا بلکہ اصل دیکھ بھال شروع ہوتی ہے۔ پہلے مرحلے میں اگاؤ کو دیکھیں۔ جہاں کہیں بھی پودے کم نکل رہے ہوں وہاں وجہ تلاش کریں۔

اس کے بعد جڑی بوٹیوں پر نظر رکھیں کیونکہ ابتدائی مرحلے میں جڑی بوٹیاں کماد کے پودوں کے ساتھ پانی، خوراک اور روشنی کے لیے مقابلہ کرتی ہیں۔

آبپاشی بھی زمین کی قسم اور موسم کو دیکھ کر کریں۔ جب فصل آگے بڑھے تو کھاد، آبپاشی، جڑی بوٹیوں اور کیڑوں کی نگرانی کو ایک مکمل پروگرام کے طور پر دیکھیں، صرف ایک چیز پر توجہ نہ دیں۔

اگر آپ چاہتے ہیں کہ پہلے 30 دن کا یہ پورا مرحلہ، اگاؤ، آبپاشی، جڑی بوٹیوں کا کنٹرول اور ابتدائی کھاد۔ ایک ہی جگہ تفصیل سے سمجھ سکیں، تو ہماری رہنمائی ستمبر کاشت کماد کی ابتدائی 30 دن کی دیکھ بھال ضرور پڑھیں۔

نتیجہ

ستمبر میں کماد کی کاشت پاکستان کے بہت سے علاقوں، خاص طور پر پنجاب اور سندھ میں کماد کی اہم کاشتی سرگرمی ہے۔ اچھی فصل کے لیے صرف ستمبر میں بیج زمین میں ڈال دینا کافی نہیں بلکہ زمین کی تیاری، صحت مند بیج، مناسب شرح بیج، قطاروں کا فاصلہ، پانی کی دستیابی اور متوازن کھاد کا خیال رکھنا ضروری ہے۔

ستمبر کاشت کماد کے لیے بہتر حکمت عملی یہ ہے کہ زمین پہلے تیار کریں، اچھا بیج پہلے حاصل کریں اور کاشت کو بروقت مکمل کریں۔ کھاد اور پانی کی مقدار زمین اور فصل کی حالت کے مطابق رکھیں۔

اکثر پوچھے جانے والے سوالات

ستمبر میں کماد کب کاشت کرنا چاہیے؟

پنجاب اور سندھ میں خزاں کی کماد کاشت عموماً ستمبر کے پہلے ہفتے سے اکتوبر کے وسط تک کی جاتی ہے۔ علاقے اور موسم کے مطابق وقت میں فرق ہو سکتا ہے۔ 

ستمبر کے کماد کے لیے فی ایکڑ کتنا بیج چاہیے؟

شرح بیج کماد کی قسم اور کاشت کے طریقے کے مطابق بدلتی ہے۔ سندھ محکمہ زراعت کی رہنمائی میں پتلی اقسام کے لیے تقریباً 80 سے 100 من اور موٹی اقسام کے لیے 100 سے 120 من فی ایکڑ بیج کا ذکر ہے۔ 

کماد کی قطاروں کا فاصلہ کتنا ہونا چاہیے؟

عام طور پر 90 سینٹی میٹر سے ایک میٹر تک قطاروں کا فاصلہ بتایا جاتا ہے، لیکن قسم اور مقامی کاشت کے طریقے کے مطابق اس میں تبدیلی ہو سکتی ہے۔ 

کیا ستمبر کاشتہ کماد فروری کاشت سے بہتر ہے؟

خزاں میں لگائی گئی کماد بعض حالات میں بہتر پیداوار اور بڑھوتری دے سکتی ہے، لیکن نتیجہ قسم، موسم، زمین، پانی اور کاشت کے انتظام پر منحصر ہوتا ہے۔ پنجاب کی سرکاری معلومات میں بھی کئی اقسام کے لیے ستمبر اور فروری دونوں کاشت کے اوقات درج ہیں۔ 

کماد کا بیج کہاں سے لینا چاہیے؟

ممکن ہو تو صحت مند، خالص اور منظور شدہ قسم کا بیج معتبر ذریعہ یا متعلقہ زرعی ادارے کی سفارش کے مطابق حاصل کریں۔

تحقیق اور ذرائع

1۔ پنجاب محکمہ زراعت — Sugarcane Research Institute, Faisalabad. کماد کی اقسام، ستمبر/فروری کاشت اور مختلف اقسام کی خصوصیات۔ 

2۔ سندھ محکمہ زراعت — Sugarcane Production Technology. زمین کی تیاری، وقتِ کاشت، شرح بیج، قطاروں کا فاصلہ اور کاشت کے طریقے۔

3۔ Pakistan Agricultural Research Council (PARC). کماد کے بیج، نئی ٹیکنالوجی اور کاشتکاروں کو تکنیکی معاونت سے متعلق معلومات۔



ایک تبصرہ شائع کریں for "ستمبر میں کماد کی کاشت کیسے کریں؟ مکمل طریقہ، وقت، زمین کی تیاری اور بیج"