![]() |
| گندم کی کاشت کے لیے زمین کی تیاری، ہل، وتر، گوبر کی کھاد اور جڑی بوٹیوں کا مؤثر طریقہ |
کسان دوستو! گندم کی اچھی فصل صرف اچھے بیج اور کھاد سے نہیں بنتی بلکہ اس کی بنیاد زمین کی تیاری سے شروع ہوتی ہے۔ اگر زمین اچھی طرح تیار نہ ہوئی ہو۔ کھیت میں ڈھیلے اور بڑے ڈھیلے رہ جائیں۔ جڑی بوٹیاں پہلے ہی موجود ہوں یا زمین میں مناسب وتر نہ ہو تو گندم کا اگاؤ متاثر ہو سکتا ہے.
خاص طور پر پچھلی فصل کی برداشت کے بعد زمین کو خالی چھوڑنے کی بجائے بروقت تیاری شروع کرنا ضروری ہے۔ محکمہ زراعت پنجاب بھی گندم کی کاشت کے لیے زمین کو مناسب وتر میں تیار کرنے ہل اور سہاگہ چلانے اور جڑی بوٹیوں کے خاتمے پر زور دیتا ہے۔
اس مضمون کو Pak Agri Info پر گندم کےلیے زمین کی تیاری کو نہایت آسان اور تفصیل سے لکھا گیا ہے۔ مجھے امید ہے کہ کسان دوستوں کو یہ مضمون پسند آئے گا۔ اور گندم کےلیے زمین کی تیاری میں معاون ثابت ہوگا۔
گندم کے لیے زمین کی تیاری کب شروع کریں؟
زمین کی تیاری کا وقت اس بات پر منحصر ہے کہ گندم سے پہلے کھیت میں کون سی فصل لگی ہوئی تھی۔ اگر کپاس، مکئی یا کوئی دوسری فصل ہے تو اس کی برداشت کے فوراً بعد کھیت کا جائزہ لیں اور زمین میں موجود نمی کے مطابق ہل چلانے کا فیصلہ کریں۔
آبپاش علاقوں میں اگر زمین خشک ہو تو محکمہ زراعت کی سفارشات کے مطابق گندم کی کاشت سے تقریباً 15 سے 20 دن پہلے پانی دے کر زمین کو وتر میں لایا جا سکتا ہے۔ اس کے بعد مناسب وقت پر ہل اور سہاگہ چلا کر زمین کو بوائی کے لیے تیار کیا جاتا ہے۔
میرا مشورہ یہی ہے کہ زمین کی تیاری آخری دنوں پر نہ چھوڑیں، کیونکہ اس سے گندم کی بروقت بوائی متاثر ہو سکتی ہے۔
گندم کی زمین میں کون سا ہل چلائیں؟
عام حالات میں زمین کی تیاری کے لیے عام ہل، ڈسک ہارو، روٹاویٹر اور سہاگہ ضرورت کے مطابق استعمال کیے جا سکتے ہیں۔ ہر کھیت میں ایک ہی مشین یا ایک ہی تعداد میں ہل چلانا ضروری نہیں ہوتا کیونکہ زمین کی حالت اور پچھلی فصل مختلف ہوتی ہے۔
اگر پچھلی فصل کے بعد زمین میں مناسب وتر موجود ہو تو کم وقت میں زمین تیار کی جا سکتی ہے۔ محکمہ زراعت پنجاب کی سفارشات میں آبپاش علاقوں کے لیے دو مرتبہ ہل اور ایک مرتبہ سہاگہ چلانے کا طریقہ دیا گیا ہے۔
اگر زمین میں پچھلی فصل کی باقیات زیادہ ہوں تو پہلے انہیں مناسب طریقے سے سنبھالیں، پھر ایسی مشین استعمال کریں جو زمین کو اچھی طرح تیار کر سکے۔
گندم کے لیے ہل کتنی گہرائی تک چلائیں؟
یہاں ایک بات سمجھنا ضروری ہے کہ ہر کھیت کے لیے ہل کی ایک مقررہ گہرائی بتانا درست نہیں ہوتا ہے۔ زمین کی قسم، سخت تہہ، نمی اور پچھلی فصل کے حساب سے گہرائی میں فرق آ سکتا ہے۔
عام مقصد یہ ہونا چاہیے کہ اوپر کی زمین اچھی طرح بھربھری ہو جائے، بیج رکھنے کے لیے مناسب نرم تہہ بنے اور سخت تہہ کی وجہ سے جڑوں کی نشوونما متاثر نہ ہو۔
اگر کھیت میں نیچے سخت تہہ بن چکی ہو تو عام ہل بار بار چلانے کے بجائے ضرورت کے مطابق گہرا ہل یا چیزل پلاؤ استعمال کیا جا سکتا ہے۔
پنجاب کے محکمہ زراعت کی تحقیق میں بھی چیزل پلاؤ اور مختلف زرعی آلات کے استعمال سے زمین کی جسمانی حالت بہتر ہونے اور بعض زمینوں میں گندم کی پیداوار بہتر ہونے کے شواہد موجود ہیں۔
لیکن صرف اس وجہ سے کہ گہرا ہل زیادہ فائدہ دیتا ہے، ہر سال غیر ضروری طور پر بہت گہرا ہل چلانا ضروری نہیں ہے۔
زمین میں وتر ہو تو تیاری کیسے کریں؟
گندم کی زمین تیار کرتے وقت وتر کا خاص خیال رکھنا چاہیے۔ بہت خشک زمین میں بار بار ہل چلانے سے ڈیزل، وقت اور خرچ بڑھتا ہے جبکہ بہت زیادہ گیلی زمین میں ہل چلانے سے مٹی کے بڑے ڈھیلے اور سخت تہہ بن سکتی ہے۔
محکمہ زراعت پنجاب کی سفارشات کے مطابق آبپاش علاقوں میں مناسب وقت پر پانی دے کر زمین کو وتر میں لایا جا سکتا ہے، پھر دو مرتبہ ہل اور ایک مرتبہ سہاگہ چلا کر زمین کو بوائی کے لیے تیار کیا جائے۔
میری نظر میں زمین کی تیاری میں سب سے اہم بات یہی ہے کہ ہل اس وقت چلایا جائے جب زمین نہ بہت خشک ہو اور نہ بہت گیلی ہو۔
کیا گندم سے پہلے گوبر کی کھاد ڈالنی چاہیے؟
اچھی طرح گلی سڑی ہوئی گوبر کی کھاد یا فارم یارڈ مینوئر زمین کے نامیاتی مادے اور زمین کی جسمانی حالت کو بہتر بنانے میں مدد دے سکتی ہے۔ پنجاب کے زرعی تحقیقی اداروں نے بھی FYM اور سبز کھاد جیسے نامیاتی ذرائع کو زمین کی صحت بہتر رکھنے کے لیے اہم قرار دیا ہے۔
لیکن تازہ گوبر کھیت میں ڈال کر فوراً گندم کاشت کرنا بہتر طریقہ نہیں ہے۔ بہتر ہے کہ اچھی طرح گلی سڑی ہوئی کھاد استعمال کی جائے اور اسے زمین میں اچھی طرح ملا دیا جائے۔
گوبر کی کھاد کو کیمیائی کھاد کا مکمل متبادل بھی نہیں سمجھنا چاہیے۔ گندم کے لیے غذائی ضرورت زمین کی زرخیزی اور مٹی کے تجزیے کے مطابق طے کرنا زیادہ بہتر ہے۔
پہلی فصل کی جڑی بوٹیاں کیسے ختم کریں؟
گندم کی زمین تیار کرتے وقت جڑی بوٹیوں کو نظر انداز کرنا بعد میں مہنگا پڑ سکتا ہے۔ اگر پچھلی فصل کے بعد کھیت میں جڑی بوٹیاں اگ رہی ہوں تو انہیں زمین میں دوبارہ بیج بنانے کا موقع نہ دیں۔
محکمہ زراعت کی سفارشات میں وقفے سے ہل چلانے کا مقصد صرف زمین نرم کرنا نہیں بلکہ جڑی بوٹیوں کو تلف کرنا بھی ہے۔ ہل چلانے سے اوپر آنے والی جڑی بوٹیاں دھوپ میں خشک ہو جاتی ہیں اور دوبارہ بڑھنے کا امکان کم ہو جاتا ہے۔
اسی لیے اگر وقت موجود ہو تو پچھلی فصل کے بعد ایک ہل چلانے اور مناسب وقفے کے بعد دوبارہ تیاری کرنے سے جڑی بوٹیوں کا دباؤ کم کیا جا سکتا ہے۔
اگر پچھلی فصل کے طور پر کنولا یا سرسوں کاشت کی گئی ہو تو اگلی فصل کی تیاری سے پہلے کھیت کی صفائی اور باقیات پر بھی توجہ دینا ضروری ہے۔
کنولا اور سرسوں کی کاشت کے وقت، اقسام اور بیج کی شرح کے بارے میں ہماری مکمل گائیڈ بھی دیکھ سکتے ہیں۔
دھان کے بعد گندم کی زمین کیسے تیار کریں؟
دھان کے بعد گندم کی کاشت میں وقت بہت اہم ہو جاتا ہے۔ کیونکہ دھان کی برداشت کے بعد گندم کی بوائی میں غیر ضروری تاخیر نہیں ہونی چاہیے۔
محکمہ زراعت پنجاب کی سفارشات کے مطابق دھان کی برداشت کے بعد ایک مرتبہ ڈسک ہارو اور اس کے بعد مناسب ہل چلانے سے زمین کو گندم کے لیے تیار کیا جا سکتا ہے۔
دھان کے بعد زمین میں نمی اور فصل کی باقیات کی مقدار دیکھ کر طریقہ اختیار کرنا چاہیے۔ جہاں زیرو ٹلج ڈرل مناسب حالت میں دستیاب ہو، وہاں یہ طریقہ بھی بروقت گندم کی کاشت اور نمی کے تحفظ میں مدد دے سکتا ہے۔
پنجاب کی زیرو ٹلج پالیسی میں بھی دھان اور گندم کے نظام میں نمی محفوظ رکھنے اور گندم کی بروقت کاشت کو اس ٹیکنالوجی کے اہم فوائد میں شمار کیا گیا ہے۔
زمین کو آخر میں سہاگہ کیوں دیں؟
ہل چلانے کے بعد سہاگہ زمین کے بڑے ڈھیلے توڑنے اور اوپر کی سطح کو برابر کرنے اور بیج کے لیے مناسب بیڈ بنانے میں مدد دیتا ہے۔
لیکن سہاگہ ضرورت سے زیادہ نہ چلایا جائے۔ سہاگہ کا مقصد یہ ہے کہ زمین نہ تو بڑے ڈھیلوں والی رہے اور نہ ہی اتنی باریک ہو جائے کہ آبپاشی کے بعد سطح سخت ہو جائے۔
اچھی زمین وہ ہے جس میں گندم کا بیج مناسب گہرائی پر آسانی سے رکھا جا سکے اور اگاؤ کے وقت پودے کو اوپر آنے میں مشکل نہ ہو۔
زمین کی ہمواری بھی بہت ضروری ہے
گندم کی فصل کے لیے زمین کا ہموار ہونا بہت اہم ہے۔ اگر کھیت میں اونچی نیچی جگہیں ہوں تو کہیں پانی زیادہ کھڑا ہو سکتا ہے اور کہیں نمی کم رہ سکتی ہے۔
اس لیے آخری تیاری کے دوران کھیت کو مناسب حد تک ہموار کرنا چاہیے۔ خاص طور پر آبپاش علاقوں میں پانی کی یکساں تقسیم کے لیے زمین کی ہمواری پر توجہ دینا فائدہ مند ہے۔
گندم کی زمین تیار کرتے وقت یہ غلطیاں نہ کریں
گندم کی زمین کی تیاری کے وقت کچھ اہم غلطیاں یہاں درج ہیں۔
- بہت خشک زمین میں بار بار ہل نہ چلائیں۔
- بہت گیلی زمین میں ہل چلا کر مٹی کو خراب نہ کریں۔
- تازہ گوبر بڑی مقدار میں ڈال کر فوراً بوائی نہ کریں۔
- پچھلی فصل کی جڑی بوٹیوں کو بیج بنانے کا موقع نہ دیں۔
- ضرورت نہ ہو تو ہر سال بہت گہرا ہل نہ چلائیں۔
- زمین کو صرف اوپر سے نرم کرنے کے بجائے سخت تہہ کی موجودگی بھی دیکھیں۔
- آخری وقت تک زمین کی تیاری مؤخر نہ کریں۔
- زمین کی ہمواری کو نظر انداز نہ کریں۔
گندم کی زمین کی بہترین تیاری کا آسان طریقہ
اگر عام آبپاش کھیت کی بات کریں تو ایک آسان ترتیب یہ ہو سکتی ہے:
پچھلی فصل کی برداشت → کھیت کا معائنہ → ضرورت کے مطابق پانی → مناسب وتر → دو مرتبہ ہل → ایک مرتبہ سہاگہ → زمین کی ہمواری → جڑی بوٹیوں کا خاتمہ → بروقت گندم کی بوائی
البتہ دھان کے بعد، بہت خشک زمین، ریتیلی زمین یا سخت تہہ والی زمین میں یہی طریقہ ہر کھیت پر جوں کا توں لاگو نہیں ہوگا۔ ایسے حالات میں زمین کی حالت کے مطابق طریقہ تبدیل کرنا چاہیے۔
گندم کی زمین کی تیاری، منظور شدہ اقسام اور جدید پیداواری سفارشات کے لیے پنجاب کے Wheat Research Institute کی معلومات بھی دیکھی جا سکتی ہیں۔
زمین کی تیاری مکمل ہونے کے بعد اگلا اہم مرحلہ گندم کی بروقت اور درست بیجائی ہے۔ بیج چھٹہ کے ذریعے ڈالنا ہو یا ڈرل اور جدید مشینی طریقے سے، ہر طریقے میں بیج کی مقدار، گہرائی اور زمین کی حالت کا خیال رکھنا ضروری ہے۔ گندم کی بیجائی کے مختلف طریقوں کے بارے میں ہماری مکمل گائیڈ بھی ضرور پڑھیں۔
اکثر پوچھے جانے والے سوالات
گندم کی زمین تیار کرنے کے لیے کتنی مرتبہ ہل چلانا چاہیے؟
عام آبپاش حالات میں محکمہ زراعت پنجاب کی سفارشات میں دو مرتبہ ہل اور ایک مرتبہ سہاگہ چلانے کا طریقہ دیا گیا ہے، تاہم زمین کی حالت کے مطابق اس میں تبدیلی ہو سکتی ہے۔
کیا گندم سے پہلے گوبر کی کھاد ڈال سکتے ہیں؟
جی ہاں، اچھی طرح گلی سڑی ہوئی گوبر کی کھاد زمین کی نامیاتی حالت بہتر بنانے میں مدد دے سکتی ہے۔ اسے مناسب وقت پر زمین میں اچھی طرح ملانا بہتر ہے۔
گندم کی زمین میں جڑی بوٹیاں کیسے ختم کریں؟
پچھلی فصل کے بعد مناسب وقفے سے ہل چلانے سے اگنے والی جڑی بوٹیوں کو تلف کیا جا سکتا ہے۔ شدید مسئلے کی صورت میں مقامی محکمہ زراعت کی سفارش کے مطابق طریقہ اختیار کریں۔
دھان کے بعد گندم کی زمین کیسے تیار کریں؟
دھان کی برداشت کے فوراً بعد وقت ضائع کیے بغیر زمین کی حالت کے مطابق ڈسک ہارو، ہل یا زیرو ٹلج جیسے مناسب طریقے سے گندم کی بروقت کاشت کی تیاری کی جا سکتی ہے۔
نتیجہ
گندم کی فصل کی بنیاد زمین کی اچھی تیاری سے پڑتی ہے۔ میرے خیال میں کسانوں کو زمین تیار کرتے وقت صرف یہ نہیں دیکھنا چاہیے کہ کھیت اوپر سے نرم نظر آ رہا ہے بلکہ وتر، جڑی بوٹیوں، سخت تہہ، زمین کی ہمواری اور پچھلی فصل کی باقیات سب کو دیکھنا چاہیے۔
اگر زمین مناسب وتر میں ہو، جڑی بوٹیاں پہلے ہی کنٹرول کر دی جائیں اور آخری وقت پر جلد بازی کے بجائے بروقت تیاری مکمل کر لی جائے تو گندم کے اچھے اگاؤ کے لیے بہتر ماحول پیدا کیا جا سکتا ہے۔
تحقیق اور ذرائع
اس مضمون کی تیاری میں گندم کی زمین کی تیاری سے متعلق محکمہ زراعت پنجاب کی سفارشات اور زرعی رہنمائی سے مدد لی گئی ہے۔ خاص طور پر زمین کو مناسب وتر میں لانے، ہل اور سہاگہ چلانے، پچھلی فصل کے بعد جڑی بوٹیوں کی تلفی اور دھان سمیت مختلف فصلوں کے بعد گندم کی زمین تیار کرنے کے طریقوں کو مدنظر رکھا گیا ہے۔ کسان اپنے علاقے کی زمین اور موسمی حالات کے مطابق مقامی محکمہ زراعت کے ماہرین سے مزید رہنمائی بھی لے سکتے ہیں۔

ایک تبصرہ شائع کریں for "گندم کی زمین کی تیاری کا مکمل طریقہ | ہل اور وتر"